سیالکوٹ۔13دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہےقومی منظرنامے پر حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات کی شاید پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ادارے نے احتساب کا عمل اپنے اندر سے شروع کیا اور ایک سینئر افسر اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کے خلاف تقریباً پندرہ ماہ طویل عدالتی کارروائی کے بعد سزا سنائی گئی، جو ایک غیر معمولی اور تاریخی قدم ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نےمزید کہا کہ اس معاملے میں مزید الزامات اور قانونی پہلو موجود ہیں جن پر کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔
خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ماضی میں عوامی مینڈیٹ سے اقتدار میں آنے والی قیادت کو ایک منظم سازش کے تحت کمزور کیا گیا، نواز شریف کو بغیر کسی مکمل عدالتی کارروائی کے مقدمات میں الجھایا گیا، قید اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا، ان کے خاندان، کارکنان اور پارٹی قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور یہ سب ایک ہی سوچ اور ایک ہی منصوبے کا حصہ تھا۔انہوں نے کہا کہ پروجیکٹ بانی پی ٹی آئی کے پیچھے ابتدا میں مختلف عناصر سرگرم رہے،لاہور میں پہلے جلسے کی ارینجمنٹ بھی انہی نادیدہ ہاتھوں نے کی تھی تاہم جب اس منصوبے پر مکمل عملدرآمد شروع ہوا تو اس کا مقصد نواز شریف کو ہٹانا اور بانی پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا عملی آغاز فیض حمیدنے کیا ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے اور فیض حمید کی نگرانی میں بانی پی ٹی آئی کو اقتدار میں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سال میں ملک کے ساتھ جو سیاسی اور ریاستی کھلواڑ کیا گیا، اس میں بانی پی ٹی آئی اور فیض ایک دوسرے کے شراکت دار رہے اور پاکستان کو تباہی کے دہانے پر پہنچایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ فیض حمیدکے ذریعے سیاسی دباؤ، مالی وسائل اور مختلف سہولتیں فراہم کی جاتی رہیں اور بانی پی ٹی آئی کو مسلسل سہارا دیا جاتا رہا۔خواجہ محمد آصف نے کہا کہ فیض حمیدکے خلاف ٹاپ سٹی کیس سمیت سنگین الزامات موجود ہیں، جن میں گاڑیوں پر قبضہ، منصوبوں پر زبردستی قبضہ جیسے الزامات شامل ہیں، جو پاکستان کی تاریخ کا ایک شرمناک باب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو مقدمات میں الجھانا، قید و جلاوطنی، ان کے خاندان، کارکنان اور پارٹی قیادت کو نشانہ بناناان تمام اقدامات کے پیچھے ایک ہی سوچ اور ایک ہی دماغ کارفرما تھا۔
خواجہ محمد آصف نے کہا کہ نو مئی کا سانحہ افواجِ پاکستان اور ریاستِ کو نقصان پہنچانے کا ایک منظم منصوبہ تھا، جس کے تحت بالخصوص پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تباہی پھیلائی گئی۔انہوں نے کہا کہ نو مئی ایک ایسا واقعہ ہے جس میں افواجِ پاکستان کے ہیروز اور شہداء کی یادگاروں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا گیا، حالانکہ یہی فوج، یہی ایئر فورس اور آرمی ہر مشکل وقت میں قربانیاں دے کر قوم کا سر بلند کرتی رہی ہے۔
وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان کی 78 سالہ تاریخ میں جو کامیابی اور استحکام فیلڈمارشل عاصم منیر کی قیادت میں آپریشن بنیان مرصوص کی صورت میں ملا اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ فوج، رینجرز اور ایئر فورس نے جس پیشہ ورانہ انداز میں ذمہ داریاں نبھائیں، وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔
خواجہ محمد آصف نے کہا کہ وہ قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوگا اور پاکستان کے دشمنوں کا احتساب منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اپنے اقتدار، طاقت اور عہدوں کے لیے ملک کو داؤ پر لگاتے ہیں، وہ پاکستانی کہلانے کے حقدار نہیں، اگر خدانخواستہ ایسے عناصر کا مکمل احتساب نہ ہوا تو وہ کبھی پاکستان کے خیر خواہ ثابت نہیں ہو سکتے۔











