اقوام متحدہ میں پاکستان کا وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد بحران کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری پر زور

8

اقوامِ متحدہ، 06 جنوری (اے پی پی): اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے وینزویلا کی صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان وینزویلا میں حالیہ پیش رفت کو گہری تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ایسے عالم میں جب دنیا پہلے ہی متعدد بحرانوں کا شکار ہے، کیریبین خطے  میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عدم استحکام علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے نیک شگون نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا منشور  ہمیں اس امر کا پابند بناتا ہے کہ ہم کسی بھی ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے باز رہیں۔

انہوں نے کہا کہ منشورِ اقوامِ متحدہ رکن ممالک کو خودمختار مساوات، دوسروں کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، اور بین الاقوامی تنازعات کے پرامن ذرائع سے حل کا بھی پابند کرتا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ یکطرفہ  فوجی کارروائی ان مقدس اصولوں اور ریاستی خودمختار استثنا  کے نظریے کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس طرح کے اقدامات خطرناک نظائر قائم کرتے ہیں جو عالمی قانونی ڈھانچے کی بنیادوں کو کمزور کرنے کا خدشہ رکھتے ہیں۔ مزید برآں، یہ عدم استحکام کو ہوا دیتے ہیں،آنے والے برسوں تک غیر متوقع اور بے قابو نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس نازک مرحلے پر آگے بڑھنے کا واحد راستہ مکالمہ اور سفارت کاری ہونا چاہیے۔ سیاسی اختلافات کے پائیدار حل صرف پُرامن ذرائع سے ہی تلاش کیے جا سکتے ہیں وہ بھی وینزویلا کے عوام کی آزادانہ مرضی کے مکمل احترام کے ساتھ، اور کسی بھی بیرونی مداخلت سے پاک۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ لاطینی امریکہ اور کیریبین کا خطہ،بحیثیت ایک زونِ امن تصادم اور محاذ آرائی سے محفوظ رہے گا اور خطے کے عوام کے لیے بہتر خوشحالی اور مضبوط علاقائی تعاون کی جانب اپنا سفر جاری رکھے گا۔