سابق وزیراعظم نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکریٹری محمد سعید مہدی کی کتاب ’’ دی آئی وٹنس اسٹینڈنگ ان دی شیڈو آف پاکستان ہسٹری‘‘ کا اجراء

12

اسلام آباد۔24جنوری (اے پی پی):لائٹ اسٹون پبلشرز نے اسلام آباد میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے سابق پرنسپل سیکریٹری، سابق چیف سیکریٹری سندھ اور سینئر سول سرونٹ محمد سعید مہدی کی کتاب ’’ دی آئی وٹنس اسٹینڈنگ ان دی شیڈو آف پاکستان ہسٹری‘‘ کا اجراء کر دیا۔ یہ کتاب پاکستان کی سیاسی تاریخ کے براہ راست مشاہدے پر مبنی احوال پیش کرتی ہے، جس میں مصنف کی طرف سے قریب سے دیکھے گئے ملکی تاریخ کے فیصلہ کن لمحات کو کتاب کی شکل دی گئی ہے ۔ لائٹ اسٹون پبلشرز کی مینیجنگ ڈائریکٹر امینہ سعید نے افتتاحی کلمات کے ساتھ سب کا خیرمقدم کیا۔

یہ مصنف کی زندگی کی تاریخ کے منفرد تجربات کی وجہ سے لائٹ اسٹون کی شائع ہونے والی کامیاب ترین کتابوں میں سے ایک ہے،سامعین کا ردعمل اور دلچسپی زبردست رہی ہے۔ ان دنوں کتابوں میں اتنی دلچسپی دیکھ کر خوشی ہوئی ہے۔ عمیر عزیز سعید ڈائریکٹر لائٹ اسٹون پبلشرز،سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار عاصمہ شیرازی نے تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے اس آپ بیتی کو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم حقائق پر مبنی ریکارڈ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایک ہی نشست میں اس دستاویز کو پڑھا ہے انہوں نے سید مہدی کو ایک ’’منتخب گواہ‘‘ قرار دیاجو سقوط ڈھاکہ سے لے کر کارگل تک تقریباً ہر نازک موڑ پر موجود تھے، جس میں بے بسی، طاقت اور کمزوری کے جذباتی سفر کو دیکھا گیا۔

تقریب میں سیاستدانوں، صحافیوں اور ادبی شخصیات سمیت 500 سے زائد مہمانوں نے شرکت کی۔ نامور شخصیات میں سیدہ عابدہ حسین، فخر امام، راحیلہ درانی (وزیر تعلیم، بلوچستان)، سکندر سلطان راجہ (ای سی پی)، سفیر سرور نقوی، رباب سکندر، شاہین مسعود، اور بہت سے دوسرے شامل تھے۔ اعزاز سید اور فرحت اللہ بابر جیسے نامور صحافیوں کے علاوہ ادبی شخصیات نے بھی شرکت کی۔

اجراءکی تقریب میں شمع سید کے سوہنی دھرتی ملی نغمہ پیش کیا گیا۔سامعین سے خطاب کرتے ہوئے محمد سعید مہدی نے کہا کہ اس کتاب میں میں نے اپنے الفاظ میں “زندہ تاریخ” ریکارڈ کی ہے، جو حکومت کی اعلیٰ ترین سطحوں پر کئی دہائیوں کی خدمات سے تشکیل پائی ہے۔اپنی یادداشت کے نچوڑ پر غور کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ میری کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ بات جو ہر کوئی کہنے سے ڈرتا ہے آپ اسے لکھیں۔بحیثیت سول سرونٹ میں نے اکثر عظیم اور یہاں تک کہ خوفناک واقعات کا بھی مشاہدہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی بساط کے مطابق حقائق کو ویسے ہی بیان کرنے کی اپنی پوری کوشش کی ہے جیسا میں نے دیکھا ۔

انہوں نے کہا کہ یہ یادداشت تحقیقاتی کے بجائے بیانیہ ہے، جو ذاتی تجربات، کامیابیوں اور ناکامیوں کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ تشریح تاریخ دانوں پر چھوڑتی ہے۔ ان کے کیریئر نے انہیں پاکستان کی تاریخ کے کئی اہم لمحات میں جگہ دی۔ راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر کے طور پرانہوں نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کے آخری مرحلے کا مشاہدہ کیا اور پھانسی سے قبل ان سے ملنے والے آخری اہلکار تھے۔ لاہور کے کمشنر کے طور پرانہوں نے 1986 میں جلاوطنی سے واپسی پر بے نظیر بھٹو کا استقبال کیا۔ بعد میں وزیر اعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری کے طور پرانہوں نے 1999 کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں ہونے والے واقعات کا مشاہدہ کیا اور اس کے بعد دو سال قید میں گزارے۔سینیٹر مشاہد حسین سید نے اس یادداشت کو پاکستان کے تاریخی ریکارڈ میں ایک اہم اضافہ قرار دیا، جس نے پس پردہ فیصلہ سازی اور عوامی سمجھ بوجھ کے درمیان فرق کو ختم کرتی ہے ۔

سینئر صحافی اور ایڈیٹر ملک ظہور احمد نے اسے ایک نادر اور قابل تعریف کام قرار دیا جس میں مصنف کے بجائے واقعات کو مرکز میں رکھا گیا ہے اور ذمہ داری اور ملک کی حفاظت کے ساتھ سچ بولتے ہوئے قارئین کو اپنی بات پہنچائی گئی ہے۔ صحافی اور سیاسی تجزیہ کار نسیم زہرہ نے سعید مہدی کے پیشہ ورانہ نکتہ نظر کی تعریف کی، جنہوں نے عینی شاہد کے طور پر کتاب کی صداقت پر مہر ثبت کی ہے۔سینئر صحافی عاصمہ شیرازی نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کے پس منظر میں کتاب کی بصیرت پر روشنی ڈالی، خاص طور پر سویلین اتھارٹی اور فوجی حکمرانی کے درمیان بار بار پیدا ہونے والے تناؤ پر روشنی ڈالی، اور کہا کہ اس طرح کے بیان سیاق و سباق کو بیان کرنے میں مدد کرتے ہیں کہ بڑے فیصلے کیسے کیے گئے اور تجربات کیسے رہے۔

خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے اس کتاب کو پاکستان کے تاریخی ریکارڈ میں ایک قیمتی اضافہ قرار دیتے ہوئے اس کا دوسرا ایڈیشن جلد شروع کرنے کی سفارش کی۔ محمد مالک سینئر صحافی نے کہا کہ وہ یقینی طور پر وفاقی دارالحکومت کے پسندیدہ کہانی سنانے والے رہیں گے ، جن کی نظر تفصیلات پر ہوتی ہے جن میں حس مزاح اور فکری ایمانداری ہے۔سابق قائم مقام صدر وسیم سجاد نے یادداشت کو “درد بھری پکار” قرار دیا