غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا فیصلہ نیک نیتی کے تحت کیا گیا :پاکستان عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر امن، انسانی ہمدردی اور پائیدار ترقی کے فروغ کےلئے فعال کردار ادا کرتا رہے گا ، ترجمان دفترِ خارجہ

13

اسلام آباد،29جنوری (اے پی پی):دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان کا غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا فیصلہ نیک نیتی کے تحت کیا گیا ہے تاکہ جنگ بندی کو مستحکم کیا جا سکے، غزہ کی تعمیر نو میں معاونت کی جاسکے اور مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور دیرپا حل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ جمعرات کو یہاں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے صحافیوں کے پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت سے متعلق مختلف سوالات کے جوابات دیئے۔ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ اس اقدام کو آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کی مشترکہ کاوش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جن میں پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور قطر شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے مینڈیٹ کے تحت غزہ میں امن کے فروغ کےلئے کام کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے وقت میں جب دیگر بین الاقوامی طریقہ کار غزہ میں جاری مصائب اور تباہی کو روکنے میں ناکام رہے ہیں، بورڈ آف پیس امید کی ایک کرن فراہم کرتا ہے۔ ترجمان نے ان قیاس آرائیوں کو قطعی طور پر مسترد کردیا جن میں پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کو ابراہیم معاہدوں سے جوڑا جا رہا ہے یا اسے فلسطین کے بارے میں پاکستان کے اصولی موقف میں کسی قسم کی نرمی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

ترجمان نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، کےلئے پاکستان کی دیرینہ اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کا متبادل نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے نظام کی تکمیل اور اس کی معاونت کےلئے تشکیل دیا گیا ہے۔ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان کا بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا فیصلہ تمام متعلقہ اداروں اور شراکت داروں سے مشاورت کے بعد اور وفاقی حکومت کے رولز آف بزنس کے مطابق کیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بورڈ کی رکنیت کا مطلب کسی بین الاقوامی استحکامی فورس کےلئے فوجی دستے فراہم کرنے کا کوئی عزم نہیں ہے۔ بریفنگ کے آغاز میں ترجمان نے پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کا بھی جائزہ پیش کیا جن میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی 20 سے 22 جنوری تک سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقد ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس میں شرکت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ایک اعلیٰ سطح کے وفد کی قیادت کی اور عالمی رہنماؤں کے غیر رسمی اجلاس میں شرکت، آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سات دیگر عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر بورڈ آف پیس میں شمولیت سے متعلق ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں غزہ امن منصوبے کی حمایت کےلئے مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا۔

ترجمان نے صدر مملکت آصف علی زرداری کے متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دورے کے دوران انہوں نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر بات چیت کی گئی اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ انہوں نے ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر متعدد وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں اور یورپی یونین، ایران، سعودی عرب،  ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، قطر اور بنگلہ دیش کے ہم منصبوں کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کی جس کا محور علاقائی امن، استحکام اور اقتصادی تعاون رہا۔ امریکہ کی سفری ایڈوائزری سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ یہ کسی درجے میں کمی نہیں بلکہ محض ایک اپ ڈیٹ ہے اور پاکستان بین الاقوامی سیاحت کےلئے کھلا، محفوظ اور پرامن ملک ہے۔

علاقائی کشیدگی بالخصوص ایران سے متعلق صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی مستقل پالیسی کو دہرایا کہ پاکستان امن اور سفارت کاری کا حامی ہے، پاکستان طاقت کے استعمال اور پابندیوں کی مخالفت کرتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ خطہ مزید تنازعہ اور عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر امن، انسانی ہمدردی اور پائیدار ترقی کے فروغ کےلئے فعال کردار ادا کرتا رہے گا جبکہ وہ اپنے قومی مفادات اور اصولی خارجہ پالیسی موقف کا بھرپور تحفظ بھی یقینی بنائے گا۔