اقوامِ متحدہ، 29 جنوری ( اے پی پی): اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں مشرق وسطیٰ بشمول مسئلہ فلسطین پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین کا حل طلب مسئلہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کی جڑ ہے۔ فلسطینی عوام کئی دہائیوں سے ایک غیر قانونی قبضے کا سامنا کر رہے ہیں، جو محرومی، شدید جبر اور اُن کے ناقابلِ تنسیخ حقوق—بشمول حقِ خود ارادیت—کی مسلسل نفی سے عبارت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک جانب محتاط سفارتی پیش رفت جاری ہے، جبکہ دوسری جانب غزہ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے دیگر حصوں میں سنگین انسانی صورتحال اور زمینی حقائق پر جاری خلاف ورزیاں بدستور تشویش کا باعث ہیں۔گزشتہ دو برسوں کے دوران غزہ میں یہ مصائب غیر معمولی سطح تک بڑھ گئے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں ہوئیں، وسیع تر جبری نقل مکانی ہوئی، بنیادی ڈھانچے کی تقریباً مکمل تباہی واقع ہوئی اور شدید انسانی بحران نے جنم لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری نے سفارت کاری اور امن کی جانب ایک قابلِ اعتماد سیاسی راستہ ازسرِنو استوار کرنے کی کوشش کی۔ گزشتہ جولائی میں مسئلۂ فلسطین کے پرامن تصفیے کے لیے منعقد ہونے والی اعلیٰ سطحی کانفرنس جیسے اقدامات، نیز صدر ٹرمپ کے پیش کردہ ۲۰ نکاتی امن منصوبے اسی نئے اور متحرک عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اس امر پر شدید تشویش ہے کہ غزہ کی نازک صورتحال مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں بلا تعطل جاری ہیں اور شہری جانیں بدستور خطرے میں ہیں۔ بین الاقوامی انسانی ہمدردی کی تنظیموں پر بڑھتا ہوا دباؤ انتہائی کمزور طبقات کے لیے امداد اور تحفظ کی فراہمی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
عاصم افتخار نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری، خاص طور پر اس کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ تازہ شدہ engagement کو فلسطینی عوام کی بہتری کے لیے زمینی سطح پر قابلِ پیمائش تبدیلی (Measurable change) میں تبدیل کرے۔ پاکستان کی فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی مضبوط اور غیر متزلزل ہے۔ ہم کونسل کے ارکان، علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں، اور امریکہ کے ساتھ مل کر فلسطینی مسئلے کا منصفانہ اور دیرپا حل اور مشرقِ وسطیٰ میں جامع امن کے قیام کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔











