وزیر اعظم کا برآمد کنندگان کیلئے ایکسپورٹ ری فنانسنگ کی شرح 7.5 فیصد سے کم کرکے 4.5 فیصد کرنے ، بجلی کے ٹیرف میں 4روپے 4پیسے ، ویلنگ چارجز میں 9 روپے کمی، نمایاں برآمد کنندگان کیلئے دو سال تک بلیو پاسپورٹس کا اعلان

8

اسلام آباد،30جنوری  (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے برآمد کنندگان کیلئے ایکسپورٹ ری فنانسنگ کی شرح 7.5 فیصد سے کم کرکے 4.5 فیصد کرنے ،  بجلی کے ٹیرف میں چار روپے چار پیسے مزید کمی، ویلنگ  چارجز میں 9 روپے کی کمی سمیت نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے بڑے برآمد کنندگان کیلئے دو سال تک بلیو پاسپورٹس کی مراعات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ برآمدکنندگان کی غیرمتزلزل محنت سے ملک میں اربوں ڈالر آئے، معیشت مستحکم سے پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہورہی ہے ، معرکہ حق کے بعد دنیا میں ہماری دھاک بیٹھ گئی جو پہلے سلام نہیں کرتے تھے اب گلے لگاتے ہیں، سیاسی و عسکری قیادت ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے مل کر کام کر رہی ہے ، چند سالوں میں ملکی معیشت کو بدلنے کی اہلیت رکھتے ہیں ، معاشی کامیابی کے کٹھن سفر میں کامیابی کیلئے دن رات خون پسینہ بہانا ہوگا  ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں ملک کے نمایاں برآمد کنندگان اور کاروباری شخصیات کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزرا ء خواجہ محمد آصف ،عطا اللہ تارڑ، جام کمال، احسن اقبال ،رانا تنویر حسین ،شزہ فاطمہ خواجہ،مصدق ملک ، عبدالعلیم خان ، حنیف عباسی سمیت وفاقی وزرا ، معاونین خصوصی ، مشیران اور نمایاں برآمد کنندگان اور کاروباری شخصیات بھی تقریب میں موجود تھیں۔ وزیر اعظم نے نمایاں برآمد کنندگان اور کاروباری شخصیات کو 2024 اور2025میں ان کی کارکردگی کی بنیاد پر ایوارڈ  دیئے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ پاکستان بھر سے آئی مایہ ناز کاروباری شخصیات کو خوش آمدید کہتے ہیں جنہوں نے شبانہ روز محنت کرکے ملک کا نام روشن کیا اور ملکی برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ برآمد کنندگان نے مشکل حالات میں بہترین کام کیا،پوری قوم ان کو مبارکباد پیش کرتی ہے، برآمدکنندگان کی غیرمتزلزل محنت سے ملک میں اربوں ڈالر آئے۔ وزیر اعظم نے شرکا  کو یاد دلایا کہ ماضی قریب میں پاکستان کے دیوالیہ ہونے کی باتیں کی جاتی رہیں،ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ہمارے لئے بڑا چیلنج تھا،حکومت سنبھالی تو ملک کی معاشی صورتحال ابتر تھی، آئی ایم ایف نے بڑی مشکل سے پاکستان کے لئے معاشی پروگرام کی منظوری دی ، حکومت    کی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا جبکہ کچھ سازشی عناصر ملک کے دیوالیہ ہونے کی امیدیں کئے بیٹھے تھے لیکن ان کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے آئی ایم ایف کو یقین دلایا کہ جو وعدے کیے جائیں گے وہ پورے ہوں گے کیونکہ ماضی میں ایسا نہیں ہوتا تھا، اس پروگرام کی وجہ سے عام آدمی اور کاروباری طبقے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کی قربانیوں کی بدولت ملک جو ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا آج مستحکم معیشت سے پائیدار ترقی کی جانب گامزن ہے،مہنگائی کی شرح میں بتدریج کمی آرہی ہے، پالیسی ریٹ22فیصد سے کم ہوکر ساڑھے10 فیصد تک آچکا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ فارن ایکسچینج ریزروز ڈبل ہوچکے ہیں ، اس میں بلاشبہ دوست ممالک کے قرضے بھی شامل ہیں جس کیلئے انہوں نے اور فیلڈ مارشل نے کئی ممالک کے دورے کیے۔وزیر اعظم نے چین، سعودی عرب ، یو اے ای ، قطر سمیت دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل ترین حالات میں مدد کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ قرضوں سے پاکستان کیلئے مشکلات پیدا ہوتی ہیں،ہمیں دوست ممالک کی خواہشات کا خیال رکھنا ہوتا ہے  اور ہمارا سر  جھک جاتا ہے اس لیے معیشت کا مستحکم ہونا کافی نہیں ، غربت ، بیروزگاری پر قابو پانا ہوگا ، برآمدات مزید بڑھانا ہوں گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ سرمایہ کاروں اور کاروباری طبقے کی مشکلات سے آگاہ ہیں، انہیں مراعات کی ضرورت ہے ، کاروباری طبقے کو مشاورت میں شامل کیا، 9 سب کمیٹیاں بنائیں جن کی سربراہی نجی شعبے کو دی، ان کی مشاورت سے پالیسیاں بنائیں اور فیصلے کئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملکر پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا  ہوگا، کاروباری برادری کا موجودہ حکومت پر اعتماد خوش آئند ہے، حکومتی کوششوں سے مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر آچکی ہے، حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں بلکہ اس کےلئے سازگار ماحول فراہم  کرنا ہے، برآمدات پرمبنی معاشی ترقی کو فروغ دینے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے، برآمدات پر مبنی معاشی ترقی ہماری توجہ کا محور ہے۔ انہوں  نے یقین دلایا کہ تاجر برادری کو کاروباری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔ وزیر  اعظم نے پاکستان کی سفارتی اور دفاعی محاذ پر کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معرکۂ حق میں فتح کے بعد پاکستان کا دنیا میں منفرد مقام بن چکا ہے، بھارت کو ایسی شکست دی ہے کہ اس کی نسلیں یاد رکھیں گی، فتح کے بعد دنیا ہمیں رشک و محبت سے دیکھ رہی ہے، عالمی دوروں کے دوران عالمی سربراہان اور رہنماؤں کے رویے تبدیل ہوتے دیکھے ہیں، دنیا بھر میں پاکستانی پاسپورٹ کو اب عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، معرکہ حق کے بعد مختلف ممالک کے سربراہان جو پہلے سلام لینے میں ہچکچاتے تھے اب آکر بغلگیر ہوتے ہیں،  دنیا پر ہماری ایسی دھاک  بیٹھ گئی ہے کہ اب ہماری بات مانی جاتی ہے ، سرمایہ کاری کےلئے رابطے کئے جارہے ہیں ۔وزیر اعظم نے کہا کہ سفارتی و عسکری کامیابی کے بعد معاشی کامیابی اہم چیلنج ہے، یہ ایک کٹھن سفر ہے جس کیلئے خون پسینہ بہانا ہوگا اور دن رات کام کرنا ہوگا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ترقی کا سفر اب شروع ہوا چاہتا ہے ، برآمدات و درآمدات میں توازن لانا ہوگا۔ وزیراعظم نے ایوارڈز حاصل کرنے والوں کو دو سال کیلئے بلیو پاسپورٹ اور ایمبیسیڈر ایٹ لارج کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری شفاف انداز میں ہوتے ہوئے سب نے دیکھی، شفافیت کے عمل کو یقینی بناکر نجکاری ہوگی، پی آئی اے کی ترقی کےلئے حکومت بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔ وزیر اعظم نے حکومتی اخراجات کم کرنے کے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پی ڈبلیو ڈی اور یوٹیلیٹی سٹورز کو کرپشن اور ناقص کارکردگی کے باعث بند کردیا گیا ہے، پاسکو کو بھی  ناقص کارکردگی پر بند کردیا، اداروں میں بہتری کے لئے اصلاحات لارہے ہیں، ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے گھر بیٹھے مستحقین کو 16 ارب روپے رمضان پیکج کی مد میں دیئے ، رواں سال 40 ارب روپے سفید پوشوں میں ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے تقسیم کریں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پہلے آئی ایم ایف حکام کہتے تھے کہ پاکستانی حکومت جو کہتی ہے کرکے نہیں دکھاتی، اب وہ کہتے ہیں کہ ہم کرکے دکھاتے ہیں ، ان کے یہ الفاظ صرف میرے لیے اعزاز نہیں بلکہ یہ ملک کیلئے قابل فخر ہیں۔ وزیر اعظم نے صارفین سے وصولی کرکے قومی خزانے میں ٹیکس جمع نہ کرانے والوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ٹیکس دینا ہوگا، کوئی معافی نہیں ملے گی، سب سے پہلے شوگر ملز سے 50ارب کی ریکوری کی، سرحدوں سے پٹرولیم کی سمگلنگ بند ہو چکی ،  ماہانہ ریونیو میں اضافہ ہوگیا، اس سلسلے میں پاک فوج کا کردار قابل تحسین ہے جنہوں نے سرحدوں پر سختی کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے سیاسی و عسکری قیادت ملکر فیصلے کر رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تمباکو کی صنعت ایک صوبے میں زیادہ ہے، وہاں ٹیکس جمع کرنے کیلئے اقدامات تیز کر رہے ہیں ۔ انہوں نے ٹیکسٹائل ، لیدر اور ڈیجیٹل شعبے سمیت مختلف وزارتوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے تمام وزرا  کی کارکردگی کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ شزہ فاطمہ خواجہ آئی ٹی برآمدات کےلئے بھرپور کوششیں کررہی ہیں، توانائی کے شعبے میں اویس لغاری کی کاوشیں سب کے سامنے ہیں، وزیرخزانہ معیشت کے استحکام کےلئے بھرپور کام کررہے ہیں، خواجہ محمد آصف نے پی آئی اے  کی نجکاری کے عمل میں نمایاں کام کیا، حنیف عباسی نے ریلوے کی بہتری اور راولپنڈی میٹرو کےلئے اہم کام کیا،وہ ریل کے ذریعے وسط ایشیائی ممالک سے روابط کےلئے بھی کام کررہے ہیں، زراعت کے شعبے میں رانا تنویر حسین کا اہم کردار ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے سفارتی محاذ سنبھالا ہوا ہے، جنید انوار چوہدری بحری امور کے معاملات کو جدید خطوط پر استوار کررہے ہیں۔ وزیر اعظم نے اطلاعات کے وزیر عطاء اللہ تارڑ سمیت تمام وزرا ،معاونین خصوصی اور مشیروں کا فرداً فرداً نام لیکر شاباش دی اور کہا کہ میری ٹیم کے تمام ارکان انتھک محنت سے ملکی ترقی کےلئے راہیں ہموار کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ فیلڈ مارشل کے خصوصی تعاون سے بہت سے معاملات کو حل کیا، سیاسی   و عسکری تعاون سے ترقی کے تمام راستے کھل رہے ہیں،  پاکستان مضبوط ہوگا  ۔وزیر اعظم نے صنعت کےلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ مزید  کمی کا اعلان کیا۔ انہوں نے برآمد کنندگان کےلئے ٹیکس میں 3فیصد کمی کا بھی اعلان کیا  اور کہاکہ برآمد کنندگان کےلئے ٹیکس ساڑھے 7 سے کم کرکے ساڑھے 4فیصد پر لارہے ہیں۔ وزیر اعظم نے ویلنگ چارجز میں کمی کا بھی اعلان کیا۔ وزیراعظم نے  کہا کہ ایڈوانس ٹیکس  کا نفا ذ آئی ایم ایف کی مجبوری تھی اس لئے یہ لگانا پڑا، اس معاملہ کو بھی آئی ایم ایف کے ساتھ اٹھائیں گے۔ انہوں نے برآمد کنندگان کیلئے ری فنانسنگ  7.5 فیصد سے کم کر کے  4.5 فیصد کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس سے برآمد کنندگان کو بڑی سہولت ملے گی اور جن کو فنانس کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس سے استفادہ کر سکیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے ایکسپورٹ ری فنانس سکیم کیلئے 1052 ارب روپے مختص کئے تھے جس میں سے 900 ارب روپے استعمال کئے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سکیم کے تحت برآمدکنندگان کو سٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ کے تحت 3 فیصد کا ریلیف حاصل تھا جسے اب مزید کم کرکے 4.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بینکوں کے اعلیٰ حکام پر زور دیا کہ وہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو بھی قرضے دیں۔ تقریب میں موجودہ حکومت کی معاشی کارکردگی پر دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جبکہ وزیر اعظم نے لکی ٹیکسٹائل، صوفی انڈسٹریز، نوا ٹیکسٹائل، یو ایس اپیرل ٹیکسٹائل، آصف رائس ملز، الکرم ٹیکسٹائل، سفائر ٹیکسٹائل، غریب سنز رائس ملز ، ڈائمنڈ فیبرکس،ریاض ٹیکسٹائل، صداقت پرائیویٹ لمیٹڈ، سٹائل ٹیکسٹائل سمیت نمایاں برآمد کنندگان کو ایوارڈز بھی دیئے۔