اسلام آباد،28 جنوری (اے پی پی): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نےپیر کے روز وزارتِ خارجہ میں پاکستان میں تعینات ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نیزیروغلو سے تفصیلی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تجارتی تعاون کے فروغ اور بالخصوص پاکستان سے ترکیہ کو چاول کی برآمدات بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ ملاقات وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات پر منعقد ہوئی، جنہوں نے عالمی مسابقت میں اضافے کے تناظر میں زرعی برآمدات، خصوصاً چاول، کے فروغ کو ترجیح دی ہے۔
گفتگو کے دوران وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ رواں سیزن میں پاکستان میں چاول کی بہترین پیداوار ہوئی ہے، جس سے اعلیٰ معیار کے ساتھ وافر برآمدی سرپلس دستیاب ہے۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت اور ویتنام جیسے مسابقتی ممالک کی جارحانہ قیمتوں کے باعث عالمی منڈیوں میں قیمتوں پر دباؤ ہے،اگرچہ پاکستان اپنی برآمدی مقدار برقرار رکھے ہوئے ہے۔
جام کمال خان نے ترکیہ کے وفد کو آگاہ کیا کہ حکومت نے چاول کے برآمد کنندگان اور صنعتی شراکت داروں سے مشاورت کے بعد قیمتوں میں معاونت کا ایک طریقۂ کار تیار کیا ہے، تاکہ پاکستان عالمی منڈیوں میں مسابقتی حیثیت برقرار رکھ سکے۔ اس نظام کے تحت پاکستان عالمی سطح پر رائج قیمتوں کے مطابق سپلائی کرنے کے لیے تیار ہے، تاکہ خریداروں کو پاکستان سے چاول خریدنے میں لاگت کا کوئی نقصان نہ ہو۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ پاکستان ترکیہ کو باسمتی اور نان باسمتی دونوں اقسام کے چاول بین الاقوامی مسابقتی نرخوں پر فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے ترکیہ سے خصوصی بنیادوں پر پاکستان سے درآمدی حجم بڑھانے کی درخواست کی اور واضح کیا کہ پاکستان کا بنیادی ہدف قیمتوں میں زیادہ سے زیادہ اضافہ نہیں بلکہ برآمدی حجم میں اضافہ ہے، تاکہ کسانوں کی آمدن محفوظ رہے اور زرعی ویلیو چین برقرار رکھی جا سکے۔
اس مقصد کے لیے دونوں فریقین نے نجی شعبے کے موجودہ طریقۂ کار کے ساتھ ساتھ حکومت سے حکومت (G2G) تجارتی چینلز کو فعال کرنے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ مجوزہ فریم ورک کے تحت پاکستان کے سرکاری تجارتی ادارے ترکیہ کے متعلقہ سرکاری و نجی اداروں، بشمول سرکاری غلہ خریداری کے اداروں، کے ساتھ رابطہ کریں گے تاکہ قیمتوں میں مسابقت کے ساتھ بڑے پیمانے پر خریداری ممکن بنائی جا سکے۔
وفاقی وزیر نے مارکیٹ تک رسائی سے متعلق اہم امور بھی اٹھائے، جن میں ٹیرف ریٹ کوٹاز (TRQs)، درآمدی لائسنسنگ کے طریقۂ کار، اور باسمتی چاول پر صفر یا کم ٹیرف کے امکانات شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستانـترکیہ ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) کے تحت 18 ہزار میٹرک ٹن کے موجودہ TRQ کو بڑھانے اور اس کے مؤثر استعمال پر زور دیا، اور کہا کہ ماضی میں طریقۂ کار کی پیچیدگیوں کے باعث یہ کوٹہ پوری طرح استعمال نہیں ہو سکا۔
ترکیہ کے سفیر نے پاکستان کی تجاویز کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط سیاسی تعلقات کے باوجود دوطرفہ تجارتی حجم اپنی صلاحیت سے کم ہے، اور پاکستانـترکیہ اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کے اجلاس میں طے پانے والے پانچ ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کو یاد دلایا۔
دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کاروباری برادریوں کے درمیان روابط میں اضافہ کیا جائے، جن میں تجارتی وفود، نمائشیں اور بزنس ٹو بزنس (B2B) سرگرمیاں شامل ہوں، تاکہ تجارتی مواقع سے آگاہی بڑھے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی طے پایا کہ آئندہ ہفتوں میں تکنیکی وفود ملاقات کریں گے تاکہ چاول کی تجارت،PTA میں توسیع، اور زراعت، فوڈ پروسیسنگ اور ویلیو ایڈڈ چاول مصنوعات جیسے پاربوائلڈ رائس میں وسیع تر تعاون پر پیش رفت کی جا سکے۔
ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ تکنیکی مشاورت کو تیز کیا جائے، کوٹہ کے مؤثر استعمال کو بہتر بنایا جائے، اور ترکیہ سمیت علاقائی منڈیوں میں پاکستان کے چاول کی موجودگی کو مزید وسعت دی جائے، جن میں پڑوسی ممالک کو دوبارہ برآمدات کے مواقع بھی شامل ہیں۔











