اسلام آباد، 22 جنوری (اے پی پی ): وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کی ٹریلین ڈالر معیشت کا ہدف اجتماعی تیز رفتاری، ہم آہنگ پالیسیوں اور برآمدات پر مبنی معاشی ماڈل اپنانے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔جمعرات کو اے سی سی اےکے زیر اہتمام آٹھویں پاکستان لیڈرشپ کنورسیشن سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان چین کے ترقیاتی تجربے سے سیکھتے ہوئے ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر توجہ دے کر اپنی برآمدات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین نے ویلیو ایڈیشن، صنعتی استعداد اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خود کو دنیا کے بڑے برآمد کنندگان میں شامل کیا، جو پاکستان کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل ہے۔قیصر احمد شیخ نے زور دیا کہ پالیسی، سرمایہ، صنعت اور اداروں کے درمیان ہم آہنگی کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں، جبکہ ہنر مند اور مستقبل سے ہم آہنگ افرادی قوت ترقی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہی حقیقی خوشحالی اور عالمی مسابقت کا ضامن ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ صلاحیت، معیار اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے ممکن ہے، جبکہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور فِن ٹیک پاکستان کو تیز رفتار معاشی جست لگانے کے قابل بنا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد سے ملکی معیشت مضبوط ہو رہی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے مطابق سرمایہ کار دوست اصلاحات پر عملدرآمد جاری ہے۔قیصر احمد شیخ نے بتایا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کر رہا ہے، جبکہ خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری پر آئندہ دس سال کے لیے انکم ٹیکس میں مکمل چھوٹ دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قائم بزنس فسیلیٹیشن سینٹر سرمایہ کاروں کو ون ونڈو حل فراہم کر رہا ہے اور بورڈ آف انویسٹمنٹ مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔











