لاہور 26 جنوری ( اے پی پی )اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ نیشنل سیکیورٹی ایک ایسی پیراڈائم ہے جس میں چوائسز نہیں ہے ۔اگر وہاں کوئی چوائسز پیدا کرے گا تو وہ دہشتگردی کو جگہ دے رہا ہے۔آپریشن کی مخالفت سے دہشتگردوں کو فائدہ ہوگا،دہشتگردوں کی کوئی آئیڈیالوجی نہیں ہوتی ہے، اٹھارویں ترمیم کا مقصد اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی تھی لیکن اگر یہ منتقلی رک جاتی ہے تو اٹھارویں ترمیم کا مقصد نامکمل ہے اس ڈاکومنٹ سے فائدہ تو ہوا لیکن اگلا قدم کیا ہےاس میں آگے جانا ہوگا ۔وہ پنجاب اسمبلی کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ۔
انہوں نے کہا کہ کے پی کے میں افواج پاکستان اور صوبائی حکومت میں فرق آ رہا ہے تو اس کا فائدہ دہشتگرد نیٹ ورک کو ہوگا جس کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے یہ سب نا چاہتے ہوئے بھی دہشتگرد گروپ کی سپورٹ ہے جو کہ بہت تشویشناک ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے اور میں وزیراعظم سے کہوں گا کہ وہ واپس آکے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں کہ تمام مسائل کا حل پارلیمنٹ میں ہے ۔لیکن پارلیمنٹ میں اتنی تو جگہ ہو کہ دلیل سے بات کی اور سنی جا سکے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کھیل اور سیاست الگ چیزیں ہیں اس کو الگ ہی رکھنا چاہیے ،کرکٹ کے معاملے پر سیاست کریں گے تو کھیل کو بھی نقصان ہوگا اور سیاست کو بھی ۔
انہوں نے مزید کہا کہ بسنت کو تہوار کی طرح لیا جائے اور معدوم ہوتے اس تہوار کو دوبارہ زندہ کریں شہریوں سے پرزور اپیل ہے کہ ایسی چیزیں نا استعمال کی جائیں جس سے جانی نقصان ہو۔











