اسلام آباد،17 فروری (اے پی پی ): وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کی زیر صدارت آلو کی زائد پیداوار اور برآمدات کے فروغ سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک میں آلو کی اضافی پیداوار، کسانوں کو درپیش مسائل اور برآمدات بڑھانے کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر کسانوں کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی اور حکومتِ پنجاب کے اعلیٰ حکام کے علاوہ وزیرِ اعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل خان اور سیکرٹری تجارت جواد پال بھی شریک ہوئے۔
وفاقی وزیر تجارت نے ہدایت دی کہ کسانوں کو براہِ راست معاونت کو ترجیح دی جائے اور مصنوعی قیمتوں میں مداخلت سے گریز کیا جائے تاکہ منڈی کے قدرتی توازن کو برقرار رکھا جا سکے۔ انہوں نے وسطی ایشیا سمیت نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی کے لیے ہدفی اور محدود مدت کی فریٹ سہولت فراہم کرنے کی تجویز پر بھی غور کی ہدایت کی۔
اجلاس میں برآمد کنندگان کو درپیش لاجسٹکس اخراجات میں اضافے سے پیدا مشکلات کا بھی جائزہ لیا گیا اور ان مسائل کے حل کے لیے جامع حکمتِ عملی تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ بی ٹو بی روابط کے فروغ اور برآمدی منڈیوں کے تنوع کو بڑھانے کو بھی ناگزیر قرار دیا گیا۔
مزید برآں وفاق اور پنجاب کے درمیان ڈیٹا پر مبنی مشترکہ حکمتِ عملی وضع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ پیداوار، طلب اور برآمدی مواقع میں ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔
حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسانوں اور برآمد کنندگان کی عملی معاونت کو یقینی بناتے ہوئے زرعی شعبے میں استحکام اور برآمدات میں اضافے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔











