ایک مضبوط ، موثر پارلیمان ہی پائیدار طرز حکمرانی اور جمہوری استحکام کی بنیاد ہوتا ہے ، سید یوسف رضا گیلانی کا پاکستان گورننس فورم 2026 سے خطاب

12

اسلام آباد، 26فروری(اے پی پی):چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ ایک مضبوط اور موثر پارلیمان ہی پائیدار طرز حکمرانی اور جمہوری استحکام کی بنیاد ہوتا ہے اور پارلیمان ہمارے 24 کروڑ عوام کی امنگوں اور حکومت کے اقدامات کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتی ہے۔

 آج پاکستان گورننس فورم 2026 کے اختتامی اجلاس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال اور ان کی ٹیم کو اس کامیاب اور موثر گورننس فورم کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے ”اعلیٰ سطحی طرز حکمرانی کی تقریب“ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فورم نے پالیسی سازوں، ماہرین اور متعلقہ شراکت داروں کو اصلاحاتی ترجیحات اور تبدیلی کے اقدامات پر بامعنی غور و خوض کا موقع فراہم کیا۔سابق وزیر اعظم اور سپیکر قومی اسمبلی کے طور پر اپنے وسیع عوامی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے موثر حکمرانی کے لیے قانون سازی کی نگرانی (لیجسلیٹو اوور سائٹ) کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانی محض ایگزیکٹو شاخ میں پالیسی سازی کا نام نہیں بلکہ پارلیمانی جانچ پڑتال، شفافیت، احتساب اور عوامی اعتماد کو یقینی بنانے کا جامع عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف اسی وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب پالیسیوں کو پارلیمانی ملکیت اور تائید حاصل ہو۔

 ان کا کہنا تھا کہ مضبوط اور فعال پارلیمان جمہوری مزاحمت اور قومی استحکام کی ضامن ہوتی ہے۔چیئرمین سینیٹ نے پارلیمانی نظام کار جیسے کٹوتی کی تحریکیں ، توجہ دلائو نوٹس، وقفہ سوالات، مباحث اور قراردادوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہیں حکمرانی کو بہتر بنانے اور احتساب کو یقینی بنانے کے موثر ذریعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر سوال اور ہر بحث دراصل جمہوری جوابدہی اور ادارہ جاتی ذمہ داری کو مضبوط بناتی ہے۔انہوں نے پارلیمانی کمیٹیوں کے کلیدی کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ حقیقی اور جامع نگرانی کا عمل کمیٹی کمروں میں انجام پاتا ہے جہاں پالیسیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے، بجٹ کی چھان بین کی جاتی ہے اور وزراء سے جواب طلبی کی جاتی ہے۔

 انہوں نے خاص طور پر دسمبر سے مارچ تک پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کی سینیٹ میں ہونے والی مفصل جانچ کا حوالہ دیا جس کے ذریعے ترقیاتی اخراجات کو قومی ترجیحات اور عوامی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جاتا ہے۔مزید برآں سینیٹ کمیٹیوں کی جانب سے سال میں دو مرتبہ بجٹ جائزہ مالی نظم و ضبط اور شفافیت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بطور سربراہ ایوان بالا پارلیمان کو ایک مضبوط ادارہ بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے تین اہم ترجیحات کا اعلان کیا۔اول، سینیٹرز اور پارلیمانی عملے کی استعداد کار میں اضافہ تاکہ وہ پیچیدہ پالیسی اور بجٹ دستاویزات کا موثر تجزیہ کر سکیں اور شواہد کی بنیاد پر نگرانی کو فروغ دے سکیں۔دوم جدید ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا فروغ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی قیادت میں سینیٹ آف پاکستان مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلی کیشنز کی تیاری میں خطے میں نمایاں پیش رفت کر رہی ہے جن کے ذریعے قانون سازی کے مسودات کی تیاری، تقابلی پالیسی تجزیہ اور شہریوں کی قانون سازی کے عمل میں شمولیت کو بہتر بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے اسے ایک ذہین، موثر اور جوابدہ پارلیمان کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا۔سوم پارلیمانی نگرانی اور انتظامی اقدامات کے درمیان مضبوط رابطہ کا قیام۔ انہوں نے پلاننگ کمیشن اور تمام وزارتوں پر زور دیا کہ وہ پارلیمانی کمیٹیوں کی سفارشات پر عملدرآمد کے لیے باقاعدہ اور موثر نظام وضع کریں تاکہ ترقیاتی منصوبوں میں نشاندہی شدہ خامیوں کو بروقت دور کیا جا سکے اور قومی وسائل کا موثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔چیئرمین سینیٹ نے اس امر پر زور دیا کہ اچھی حکمرانی ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے اور ایک مضبوط پارلیمان ہی منصفانہ ترقی اور جمہوری استحکام کی اصل ضامن ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اجتماعی کاوشوں کے ذریعے ایک ایسے پاکستان کی تعمیر کی جائے گی جو موثر حکمرانی، جامع ترقی اور عوامی خدمت کے غیر متزلزل عزم سے عبارت ہو۔