وفاقی وزیر احسن اقبال کا پاکستان گورننس فورم 2026 کے اختتامی اجلاس سے خطاب

14

اسلام آباد، 26فروری )اے پی پی): وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال  نے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں جامع اور دور اندیش اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ اس نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ وہ وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے زیر اہتمام منعقدہ پاکستان گورننس فورم 2026 کے اختتامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس تاریخی فورم میں وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزراء، اراکین پارلیمنٹ، بین الاقوامی ترقیاتی شراکت داروں، ماہرین تعلیم اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی اور مالیاتی وفاقیت پر ایک بے مثال قومی مکالمہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے بحث کا آغاز کیا، صوبوں کو سنا اور تمام شراکت داروں کو ایک میز پر بٹھایا۔ ان کے مطابق یہ فورم اشتراکی وفاقیت کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔انہوں نے واضح کیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی عمودی تقسیم آئینی طور پر محفوظ ہے اور اس پر کوئی نظرثانی زیر غور نہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمودی تقسیم آئینی تحفظ رکھتی ہے کیونکہ یہ صوبائی خودمختاری کی ضامن ہے۔ ہماری گفتگو افقی تقسیم سے متعلق ہے ۔ یعنی وسائل کی منصفانہ تقسیم کیسے یقینی بنائی جائے۔

ساختی مالیاتی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تقریباً 14 ٹریلین  روپے کے وفاقی ٹیکس محصولات اور 5 ٹریلین  روپے کے نان ٹیکس محاصل میں سے تقریباً 8.2 ٹریلین  روپے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو منتقل کیے جاتے ہیں۔ان منتقلیوں کے بعد وفاقی حکومت کے پاس تقریباً 11.07 ٹریلین  روپے کی مالی گنجائش رہ جاتی ہے جبکہ مجموعی اخراجات تقریباً 17.5 ٹریلین  روپے تک پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ تقریباً 50 فیصد وفاقی اخراجات قرضوں کی ادائیگی اور لگ بھگ 25 فیصد دفاع پر صرف ہوتے ہیں۔ ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کے بعد وفاق کو پنشن، تنخواہوں، انتظامی اخراجات، ترقیاتی منصوبوں، گرانٹس اور سماجی تحفظ کے لیے زیادہ تر قرض لینا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال پائیدار نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد سماجی بہبود صوبائی دائرہ اختیار میں آچکی ہے، تاہم وفاقی حکومت اب بھی قومی سطح کے بڑے سماجی تحفظ پروگراموں کی مالی ذمہ داری اٹھا رہی ہے، جن میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام شامل ہے، جس پر سالانہ تقریباً 716 ارب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کی مالی ذمہ داریاں بھی وفاق کے ذمے ہیں، جو قابل تقسیم محاصل میں اپنے حصے کے حقدار ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ ذمہ داریوں اور وسائل کے درمیان بہتر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

وزیر منصوبہ بندی نے ترقیاتی فنڈنگ میں بڑھتے ہوئے عدم توازن کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی ترقیاتی بجٹ تقریباً 3 ٹریلین  روپے سالانہ تک پہنچ چکا ہے، جبکہ وفاقی پبلک سیکٹر ترقیاتی پروگرام 2018 سے سکڑ کر تقریباً ایک کھرب روپے رہ گیا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ہمارے آئندہ واجبات تقریباً 11 ٹریلین  روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ جب ہم دیامر بھاشا ڈیم جیسے اسٹریٹجک منصوبے کے لیے سالانہ تقریباً 190 ارب روپے کی ضرورت کے مقابلے میں صرف 20 ارب روپے مختص کرتے ہیں تو یہ قومی وعدوں اور مالی گنجائش کے درمیان ساختی عدم توازن کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب 82 فیصد  حصہ آبادی کے پیمانے پر مقرر کیا گیا ہو تو صوبوں کے لیے آبادی میں استحکام کی سنجیدہ کوششوں کا مالی محرق کم رہ جاتا ہے۔ اسی طرح جب 10 فیصد حصہ  غربت سے منسلک ہو تو خدشہ ہے کہ غربت میں کمی کے بجائے اس کے برقرار رہنے سے فائدہ حاصل ہو۔

غربت میں کمی، انسانی ترقی میں بہتری، ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی موافقت، آبادی میں استحکام فارمولے میں ازسرنو توازن کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ ان شعبوں کو باقاعدہ ترویج دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب کوئی ثانوی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک حقیقت ہے، جس کی عکاسی این ایف سی فارمولے میں ہونی چاہیے۔وزیر منصوبہ بندی نے آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد کے لیے منصفانہ مالی اعتراف پر بامقصد مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان آئینی تنازع کا باعث صوبے نہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہاں کے شہریوں کو مساوی حقوق سے محروم رکھا جائے۔ آئندہ این ایف سی کو آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ان خطوں کو مناسب اعتراف دینے کے طریقہ کار پر غور کرنا ہوگا۔انہوں نے قومی اقتصادی کونسل کو فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسے مالی وسائل کی تقسیم کو قومی ترقیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنے کے اعلیٰ ترین فورم کے طور پر مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کے بغیر مالی دباؤ ترقیاتی نتائج کو متاثر کرتا رہے گا۔ ہمیں وقتی مذاکرات نہیں بلکہ تعاون پر مبنی وفاقیت کو باقاعدہ ادارہ جاتی شکل دینا ہوگی۔

اختتام پر  وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو درپیش مالی چیلنجز سنگین ضرور ہیں مگر ناقابلِ حل نہیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے اسی نوعیت کی مشکلات پر قابو پایا ہے۔ کامیابی کے لیے عزم، پالیسی کا تسلسل، سیاسی استحکام اور مسلسل اصلاحات درکار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو اسکولوں کی تعمیر، صحت کے نظام کی مضبوطی، ہنرمندی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور موسمیاتی موافقت میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ہر کامیاب ملک نے امن، استحکام اور اصلاحات پر مبنی ترقیاتی نظام تشکیل دیا ہے۔ این ایف سی کو بھی انہی اصولوں کی عکاسی کرنی ہوگی۔انہوں نے ا س امید کا اظہار کیا کہ ہم نے قومی مکالمے کا آغاز کر دیا ہے۔ اگلا مرحلہ ادارہ جاتی اصلاحات کا ہے۔ حکومت 2035 تک ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت کے ہدف کے حصول کے لیے اصلاحات کی رفتار تیز کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔