راولپنڈی،1فروری (اے پی پی):سیکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت، دلیری اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان بھر میں طویل، شدید اور جرات مندانہ کلیئرنس آپریشنز کے دوران تین خودکش بمبار وں سمیت 92 دہشت گردوں کوجہنم واصل کر دیا۔
ہفتہ کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان کا امن خراب کرنے کی غرض سے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی کے گرد و نواح میں متعدد دہشت گرد کارروائیاں کرنے کی کوشش کی۔اپنے غیر ملکی آقاؤں کے ایما پر کی جانے والی ان بزدلانہ دہشت گردانہ کارروائیوں کا مقصد بلوچستان کے عوام کی روزمرہ زندگی اور صوبے کی ترقی کو سبوتاژ کرنا تھا۔ ان کارروائیوں کے دوران ضلع گوادر اور خاران میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیاجہاں دہشت گردوں نے دانستہ طور پر 18 معصوم شہریوں (جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور مزدور شامل تھے) کو نشانہ بنایا، جو شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر چوکس تھے اور انہوں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔ افسوسناک طور پر کلیئرنس آپریشنز اور شدید جھڑپوں کے دوران وطن کے 15بہادر سپوت دلیری سے لڑتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کر گئے اور شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشنز مسلسل جاری ہیں اور ان بزدلانہ و گھناؤنی کارروائیوں کے منصوبہ سازوں، سہولت کاروں، معاونین اور مرتکبین، جنہوں نے معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایاکو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔انٹیلی جنس رپورٹس نے بلا شبہ تصدیق کی ہے کہ یہ حملے پاکستان سے باہر موجوددہشت گرد سرغنوں کی جانب سے منصوبہ بند اور ہدایت یافتہ تھےجو واقعے کے دوران براہ راست دہشت گردوں سے رابطے میں تھے۔اس سے قبل 30 جنوری کو پنجگور اور ہرنائی میں فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 41 دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے۔ گزشتہ دو دنوں میں کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں بلوچستان میں جاری آپریشنز کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 133 ہو چکی ہے۔علاقے میں موجود کسی بھی بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گرد کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری ہیں۔ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی اپیکس کمیٹی کی منظور کردہ حکمتِ عملی “عزمِ استحکام” کے وژن کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی بلا تعطل انسدادِ دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رکھیں گے۔











