فیصلہ سازی میں شفافیت، کارکردگی و مساوی مواقع کو یقینی بنا کر ہی ملک کو بہتری کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک

12

اسلام آباد، 25فروری(اے پی پی): وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ فیصلہ سازی میں شفافیت، کارکردگی اور مساوی مواقع کو یقینی بنا کر ہی ملک کو بہتری کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے، ریاست کو ان شعبوں میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے جہاں نجی منافع کم لیکن عوامی مفاد انتہائی زیادہ ہو۔وہ بدھ کو یہاں وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کی جانب سے منعقدہ پاکستان گورننس فورم کے موقع پر پینل مباحثے کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی تعلیم، صحت اور سیلاب سے بچائو  جیسے شعبے ایسے ہیں جہاں ’’پبلک ریٹ آف ریٹرن‘‘ بہت زیادہ ہوتا ہے اس لیے ان کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم یافتہ معاشرہ مجموعی طور پر ترقی کرتا ہے، اس لیے بنیادی تعلیم کی فراہمی ریاست کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔انہوں نے سیلابی نقصانات کا حوالہ دیتےہوئے کہا کہ گزشتہ برسوں میں ہزاروں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ کروڑوں لوگ بے گھر ہوئے،شمالی علاقوں میں حفاظتی بند اور دیگر اقدامات کسی فرد نہیں بلکہ پوری آبادی کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، اس لیے ایسے منصوبوں میں سرمایہ کاری ریاست کی ذمہ داری ہے کیونکہ نجی شعبہ ان میں دلچسپی نہیں لیتا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس کے برعکس ایئر لائنز اور اسٹیل ملز جیسے منافع بخش شعبے نجی سیکٹر زیادہ مؤثر انداز میں چلا سکتا ہے، دنیا کے بیشتر ممالک نے ایسے ادارے نجی شعبے کے سپرد کر دیے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ نجی شعبے کو مناسب ریگولیشن کے تحت رکھنا ضروری ہے تاکہ عوامی مفاد کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے سرکاری نظام میں تاخیر اور فیصلہ سازی کے فقدان پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض منصوبے دہائیوں تک التوا کا شکار رہتے ہیں جس کے باعث ان کی افادیت متاثر ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسائل کی نوعیت بدل جانے کے باوجود پرانے منصوبوں پر عمل درآمد جاری رکھنا وسائل کے ضیاع کے مترادف ہے۔ڈاکٹر مصدق ملک نے ’’ایلیٹ کلچر‘‘ کو نظام کی بڑی خرابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ چند بااثر افراد ہر دور میں اثر و رسوخ برقرار رکھتے ہیں جس سے نوجوانوں میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کامیابی کے لیے صلاحیت سے زیادہ تعلقات ضروری ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ فیصلہ سازی میں شفافیت، کارکردگی اور مساوی مواقع کو یقینی بنا کر ہی ملک کو بہتری کی راہ پر ڈالا جا سکتا ہے۔