اسلام آباد،03فروری (اے پی پی):نیب نے سال 2025 کے لئے اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں ادارے کے قیام سے اب تک کی سب سے بڑی سالانہ وصولی 6,213 ارب روپے (62 کھرب 13 ارب روپے) ریکارڈ کی گئی ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں نیب کی مجموعی ریکوری 11,524 ارب روپے (تقریباً 41 ارب ڈالر) تک پہنچ گئی ہے۔نیب کے ڈپٹی چیئرمین سہیل ناصر، پراسیکیوٹر جنرل احتشام قادر شاہ اور ڈائریکٹر جنرل امجد مجید اولکھ نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کی قیادت میں ادارے نے بے مثال کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔نیب نے سال 2025 میں 29 لاکھ 80 ہزار ایکڑ سرکاری اور جنگلاتی اراضی واگزار کرائی جس کی مجموعی مالیت تقریباً 59 کھرب 80 ارب روپے ہے۔ سکھر میں 3,730 ارب، بلوچستان میں 1,374 ارب اور ملتان میں 653 ارب روپے کی زمین بحال کی گئی۔ہاؤسنگ سکیموں کے متاثرین کو بھی خاطر خواہ ریلیف فراہم کیا گیا جس کے تحت 1 لاکھ 15 ہزار متاثرین کو 180 ارب روپے منتقل کئے گئے۔ تاریخ میں پہلی بار ڈیجیٹل نظام کے ذریعے 2.8 ارب روپے براہِ راست متاثرین کے بینک کھاتوں میں منتقل کئے گئے۔ سٹیٹ لائف ہاؤسنگ کے متاثرین کو 72.23 ارب روپے مالیت کے پلاٹ واپس دلائے گئے جبکہ ایڈن ہاؤسنگ، الباری گروپ اور AAA ایسوسی ایٹس کے متاثرین کو اربوں روپے کی واپسی ممکن ہوئی۔نیب کے آپریشنز ڈویژن کو 23,411 شکایات موصول ہوئیں جن میں غیر ضروری شکایات میں 24 فیصد کمی اور پبلک آفس ہولڈرز و تاجروں کے خلاف شکایات میں 52 فیصد کمی دیکھی گئی۔ سال کے دوران نیب نے 191 انکوائریز اور 65 اہم تحقیقات مکمل کیں جبکہ کرپشن کے خلاف وِسل بلوئرز کی شکایات میں 41 فیصد اضافہ ہوا۔عدالتوں میں نیب کے استغاثہ کی کامیابی کی شرح 72 فیصد تک پہنچ گئی ۔تحقیقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور بلاک چین ٹیکنالوجی جیسے جدید ٹولز کا استعمال شروع کیا گیا۔ 302 ریفرنسز زیر سماعت رہے جن میں سے قانون میں تبدیلی کے بعد 246 ریفرنسز دیگر اداروں کو منتقل کئے گئے۔ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت 127 ارب روپے کے اثاثوں پر مشتمل 39 ہائی پروفائل کیسز کا آغاز بھی کیا گیا۔وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت 238 غیر ضروری آسامیاں ختم کی گئیں، جس سے سالانہ 356 ملین روپے کی بچت ہوئی۔ نیب نے آپریشنل اخراجات اور ایندھن کے استعمال میں 30 فیصد کمی کی، ای-آفس سسٹم رائج کیا اور ملازمین کے لئے ڈیجیٹل ایچ آر ایم ایس سسٹم تیار کیا۔ اندرونی احتساب کے تحت 13 انکوائریز مکمل کی گئیں اور جعلسازوں کے نیٹ ورک بے نقاب ہوئے۔نیب نے ملائیشیا، سعودی عرب اور نائیجیریا کے انسداد بدعنوانی اداروں کے ساتھ نئے عالمی معاہدے بھی کئے ہیں جو ادارے کے بین الاقوامی سطح پر تعاون اور شفافیت کو مزید مضبوط کریں گے۔











