وزارتِ پارلیمانی امور ، پارلیمانی معاملات میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے،  ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا انٹرویو

75

اسلام آباد۔22فروری  (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وزارتِ پارلیمانی امور افرادی قوت اور ذیلی محکموں کے لحاظ سے سب سے چھوٹی وزارت ہونے کے باوجود پارلیمانی امور کی انجام دہی میں سب سے اہم  کردار ادا کرتی ہے۔  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں اور شخصیت کے حوالے سے جو تعریف کی ہے دنیا کو  پاکستان کے حوالے سے ایک مثبت پیغام دیا  گیا ہے ۔  وزیراعظم نے وزارت پارلیمانی امور کی کارکردگی کو خصوصی طور پر سراہا ہے۔  جمعہ کو اے پی پی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزارت پارلیمانی امور کا عملہ دیگر وزارتوں کے مقابلے میں سب سے کم ہے مگر یہ تمام وزارتوں سے زیادہ اہمیت کی حامل وزارت ہے، پارلیمنٹ کا تمام بزنس اسی وزارت کے ذریعے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاسوں کے دوران تمام وزارتوں کی نمائندگی بھی ایوان میں وزارت پارلیمانی امور ہی کرتی ہے ،قانون سازی میں پارلیمانی امور کا کردار کلیدی ہوتا ہے اور وزارت قانون کے ساتھ مل کر ہم یہ تمام کام کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تمام حکومتی بلز وزارت پارلیمانی امور لاتی ہے ،سینیٹ اور قومی اسمبلی کے آرڈر آف دی ڈیز بھی وزارت پارلیمانی امور کے ذریعے ہی آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال مکمل ہونے پر ہم نے کارکردگی کے حوالے سے   ایک پیپر  بھی شائع کیا ہے جس میں وزارت پارلیمانی امور کی کارکردگی کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام وزارتوں کے پارلیمان  سے متعلق سوالات، توجہ مبذول نوٹسز اور تمام دیگر امور ایوان میں پارلیمانی امور کی وزارت کے ذریعے ہی انجام دیے جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے وزارت پارلیمانی امور کی کارکردگی کی خصوصی تعریف کی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کابینہ میں رد و بدل کا فیصلہ وزیراعظم کرتے ہیں، شہباز شریف ایک بہترین کپتان کی طرح اچھا کام کرنے والے کو شاباش دیتے ہیں اور اچھا کام نہ کرنے والوں کی باز پرس بھی ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کارکردگی کا جائزہ لے کر ہی کابینہ میں رد و بدل کا فیصلہ وزیراعظم کریں گے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی 10 قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین تحریک انصاف سے ہیں ۔ہر کمیٹی میں ان کے چار سے پانچ ارکان موجود ہیں تاہم جن 10 کمیٹیوں کے چیئرمین تحریک انصاف سے تھے، ان کے استعفوں کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سمیت ان کا کام رک گیا تھا ۔ میں نے سپیکر کو یہ تجویز دی تھی کہ ہم ان کمیٹیوں کی اجلاسوں کے انعقاد کے لیے ریکوزیشن کر سکتے ہیں۔ جس کے بعد کمیٹیوں نے ریکوزیشن کے ذریعے اپنا کام نمٹانا شروع کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس بھی ریکوزیشن کے ذریعے تواتر سے ہو رہے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گورننس کے حوالے سے سوال کا جواب دینے کے لیے گھنٹے درکار ہیں ،ہم نے مشکل حالات میں حکومت سنبھالی۔ وزیراعظم شہباز شریف محنت سے کام کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کی خواہش تھی کہ ملک دیوالیہ ہو اور لوگ تالیاں بجائیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک کے معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں ،غیر ملکی سرمایہ کاری آرہی ہے، معاشی استحکام آ رہا ہے ،غیر ملکی زر مبادلہ میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ،ہماری کوشش ہے کہ زراعت، معیشت ،موسمیاتی تبدیلیوں اور آئی ٹی وغیرہ کے شعبوں میں کام کی رفتار تیز کی جائے ،ہم اتحادی جماعتوں کے شکر گزار ہیں جن کے تعاون سے ہم کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی کا سامنا ہے جو ایک چیلنج ہے ،اس کے سد باب کے لئے  سر توڑ کوشش کی جا رہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف آپریشن بنیان المرصوص  میں بے مثال کامیابی کے بعد عالم اسلام سمیت پوری دنیا پاکستان کو ایک مختلف زاویے اور نقطہ نظر سے دیکھ رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس کی سب سے بڑی مثال وزیراعظم کے حالیہ دورہ امریکہ کے دوران امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں اور شخصیت کے حوالے سے جو تعریف کی ہے ،دنیا کو اس سے پاکستان کے حوالے سے مثبت پیغام گیا ہے کہ کس طرح پاکستان ابھر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ انشاءاللہ ملک مزید ترقی کی منازل طے کرے گا۔