پاکستان کا فلسطینیوں کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ ،مغربی کنارے میں اسرائیل کے حالیہ غیر قانونی اقدامات کی مذمت

12

اقوام متحدہ،19فروری  (اے پی پی):نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے پاکستان کی طرف سے فلسطینیوں کی  غیر متزلزل حمایت کرتے ہوئے مغربی کنارے پر اسرائیل کے حالیہ غیر قانونی اقدامات بشمول الحاق کی کوششوں، بستیوں کے قیام اور فلسطینیوں کی زمینوں کو”ریاستی زمین” قرار دینے کی سخت مذمت  کی ہے اور واضح کیا ہے کہ انصاف کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں،  فلسطینی عوام کو حقِ خودارادیت دیئے بغیرکوئی حل نہیں،پاکستان مستقل جنگ بندی، امداد میں اضافے، غزہ کی تعمیرِ نو اور مربوط سفارت کاری کے ذریعے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کی حمایت کے لیے بورڈ آف پیس میں شامل ہوا ۔ جمعرات کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مشرقِ وسطیٰ بشمول مسئلہ فلسطین پر ہونے والی  بریفنگ  میں پاکستان کا موقف  پیش کرتے ہوئے نائب وزیراعظم  و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے  غزہ میں جنگ بندی کو مستحکم بنانے،شہریوں کی تکالیف کم کرنے اور غزہ تنازع کے خاتمے کے جامع منصوبے پر عملدرآمد کی جاری سفارتی کوششوں کو اجاگر کیا جس کی توثیق سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے ذریعے کی گئی ہے۔نائب وزیرِاعظم و وزیر خارجہ  سینیٹر  محمد اسحاق ڈار نے امریکی صدر  ڈونلڈ جے ٹرمپ کی قیادت میں امن اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ،انڈونیشیا ،متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، اردن ، مصر اور ترکیہ  سمیت آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے گروپ کے ساتھ مل کر منصفانہ حل کے لیے فعال کردار ادا کررہا ہے۔انہوں نے مغربی کنارے پر اسرائیل کے حالیہ غیر قانونی اقدامات بشمول الحاق کی کوششوں، بستیوں کے قیام کے فروغ اور زمینوں کو “ریاستی زمین” قرار دینے کی سخت مذمت کرتے ہوئےکہا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، چوتھے جنیوا کنونشن، سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 اور 2024 میں بین الاقوامی عدالت انصاف  کی مشاورتی رائے کی خلاف ورزی ہیں۔نائب وزیرِاعظم  و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور اقوامِ متحدہ کے دفاترو تنصیبات پر حملوں، انسانی امداد پر پابندیوں اور امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹوں کی مذمت کرتے ہوئے صورتِ حال کو ناقابلِ قبول اور نہایت نازک قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر القدس الشریف کو دارالحکومت بناتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک قابلِ اعتماد، ناقابلِ واپسی اور وقت کے تعین کے ساتھ سیاسی عمل ناگزیر ہےجو بین الاقوامی جواز اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں فلسطینی قیادت میں حکمرانی اور ادارہ جاتی استحکام خصوصاً فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار نہایت اہم ہے۔ نائب وزیرِاعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق  ڈار نے کہا کہ پاکستان مستقل جنگ بندی، امداد میں اضافے، غزہ کی تعمیرِ نو اور مربوط سفارت کاری کے ذریعے فلسطینی حقِ خودارادیت کے حصول کی حمایت کے لیے بورڈ آف پیس میں شامل ہوا ۔ محمد اسحاق ڈار جو  واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وفد میں شامل ہیں،نے کہا کہ پاکستان امن  کوششوں کوتقویت دینے کے لیے اس اجلاس میں شرکت کرے گا ۔ انہوں نے  کہا کہ  بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی بنیاد پر مشرقِ وسطیٰ میں منصفانہ اور پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان صدر ٹرمپ کے امن منصوبے، بورڈ آف پیس، مسئلہ فلسطین کے پُرامن حل سے متعلق اعلیٰ سطح  کانفرنس اور دو ریاستی حل کے لیے عالمی اتحاد جیسے اقدامات میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ مربوط اور عملی نفاذ کے ذریعے جامع علاقائی امن کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے اس امید کا اظہارکیا کہ یہ تمام اقدامات ہمارے مشترکہ مقصد یعنی مشرقِ وسطیٰ میں منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کا  حصول کے لیے ایک دوسرے کو مضبوط بنائیں گے۔