اقوام متحدہ،10مارچ (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان میں پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کا مقصد افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنا ہے، نہ کہ برادر افغان عوام کے خلاف کارروائی کرنا ہے۔
یہ بات اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نےگزشتہ روز افغانستان کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں گفتگو کے دوران کہی۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا دینے کی پالیسی فوراً بند کرنی چاہیے،بھارت طالبان حکومت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے نامزد مگر عملاً الگ تھلگ نمائندہ نصیر احمد فائق دراصل کسی کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ صرف اپنی ذات کی نمائندگی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نصیر احمد فائق دراصل افغانستان کے عوام کی نمائندگی نہیں کرتے کیونکہ وہ سابق افغان حکومت کے مقرر کردہ نمائندے ہیں اور موجودہ زمینی حقائق سے کٹے ہوئے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ افغانستان کے نمائندہ نصیر احمد فائق زمینی حقائق سے مکمل طور پر کٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے صورتحال کے بعض پہلوؤں پر، خاص طور پر پاکستان کے حوالے سے، منتخب انداز میں تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ نصیر احمد فائق نے افغانستان سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کے بارے میں کچھ نہیں کہا، جو پاکستان پر شدید اثرات ڈال رہی ہے، جس میں ہمارے شہریوں، مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بنیادی ڈھانچے کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ عالمی برادری نے طالبان کو اپنا رویہ تبدیل کرنے کے لیے موقع اور تعاون کی پیشکش کی تھی، مگر اس کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ آج افغانستان دہشت گرد گروہوں اور ان کے معاون نیٹ ورکس کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے اندر موجود بعض عناصر نے ان گروہوں کی شراکت اور فعال حمایت کا راستہ اختیار کیا ہے، جس کے ہمسایہ ممالک پر سنگین اثرات پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو اس کے اثرات پورے خطے میں پھیل سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پاکستان سرحد پار سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کا سامنا کرتے ہوئے خاموش نہیں بیٹھے گا۔
پاکستانی مندوب نے اپنے بھارتی ہم منصب پروانتھنینی ہریش کے بیان کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی دشمنی سب پر واضح ہے اور افغانستان سے متعلق اس کی پالیسی کا بنیادی مقصد پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی اور معاونت کرتا ہے، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) شامل ہیں۔
پاکستانی سفیر کے مطابق بھارتی مندوب نے افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے خطرے کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا، حالانکہ یہی خطرہ پاکستان کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے۔ پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ بھارت ان تمام سرگرمیوں میں شریک ہے اور پاکستان نے بھارت کے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ناقابلِ تردید شواہد فراہم کیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ محسوس کیا جا سکتا ہے کہ بھارت کو اس بات پر تکلیف ہو رہی ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورک پر اس کی بھاری سرمایہ کاری پاکستان کی جانب سے دہشت گرد کیمپوں اور معاونت کرنے والے مراکز کے خلاف موثر اور درست کارروائیوں کے باعث ضائع ہو رہی ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا تاکہ ایسے گروہوں کے نیٹ ورک اور صلاحیت کو ختم کیا جا سکے۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ دنیا کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی کرنے والے ملک بھارت سے کسی لیکچر کی ضرورت نہیں ہے،ایک ایسی ریاست جو ایک علاقے پر غیر قانونی طور پر قابض ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، جموں و کشمیر اور دیگر علاقوں میں ریاستی دہشت گردی کرتا ہے، اقلیتوں کو منظم طور پر کمزور کر رہا ہے، نفرت پھیلا رہا ہے، پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے پاکستان کی آبادی کو بھوک سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ریاستی پالیسی کے طور پر جھوٹی معلومات پھیلا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ افغانستان میں رکاوٹ ڈالنے کا کردار ادا کیا ہے، پاکستان نے اس ملک میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے میں ذمہ داری کے ساتھ کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے اہداف تب ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں جب طالبان حکومت انسداد دہشت گردی، شمولیتی حکومت اور افغان خواتین و لڑکیوں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق اپنے وعدے پورے کرے جو تین اہم نکات آج کے اجلاس میں کونسل کے اراکین نے اجاگر کیے تھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت طویل عرصے سے اس خطرناک کھیل میں مصروف رہا ہے، ہم افغان سرزمین سے ان کی تخریب کاری اور مداخلت کو پاکستان کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ پاکستان باقاعدگی سے طالبان حکام کے ساتھ بات چیت اور رابطے کو فروغ دیتا رہا ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال کے اعلیٰ سطحی دوروں کا حوالہ دیا، جن میں کئی اقدامات پیش کیے گئے، انسانی ہمدردی کی معاونت فراہم کی گئی، دوطرفہ تجارتی مراعات دی گئیں، ویزہ پالیسی میں نرمی کی گئی، ٹرانزٹ سہولیات فراہم کی گئیں اور پاکستان افغانستان کو خطے اور عالمی سطح پر مربوط کرنے کے لیے علاقائی پلیٹ فارمز میں شرکت کر رہا ہے۔ تاہم، پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ دہشت گرد تنظیمیں جیسے ٹی ٹی پی،بی ایل اے اور اس کے مجید بریگیڈ ،داعش خراسان اور ای ٹی آئی ایم افغانستان کے اندر محفوظ ٹھکانے رکھتی ہیں، جہاں سے وہ سرحد پار داخل ہو کر پرتشدد حملے اور خودکش دھماکے کرتے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے، جو براہِ راست طالبان حکومت کی نگرانی میں منصوبہ بندی، مالی معاونت اور تنظیم کے ساتھ انجام دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں ہزاروں جانوں کی قربانی دی ہے اور صرف گزشتہ ماہ 175 سے زائد معصوم پاکستانی شہری شہید ہوئے، جن میں تین خودکش حملے شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی طرف سے موثر کارروائی نہ کرنا، یقین دہانی اور ضمانتیں دینے سے گریز اور اپنی قیادت کے ذریعے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کی مذمت نہ کرنا، ان کی شرکت اور فعال فعال معاونت کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں غیر ملکی افواج کی جانب سے چھوڑا گیا جدید فوجی ساز و سامان ضبط کر لیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم اپنے شہریوں، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری دفاعی اقدامات کریں گے۔ ہماری انسداد دہشت گردی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک دہشت گرد گروہوں کی جنگی صلاحیت اور معاونت کے ڈھانچے کو ختم نہیں کیا جاتا۔











