اسلام آباد، 10 مارچ ( اے پی پی): وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے خارجہ پالیسی کے بارے میں سوشل میڈیا پر غیر ضروری تبصروں کو نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے لئے پاکستان کا مفاد مقدم ہے، خطے کے ممالک کے ساتھ ہمارے قریبی اور دوستانہ تعلقات ہیں، خارجہ پالیسی کو مقامی معاملات کے طور پر نہ لیا جائے۔
منگل کو یہاں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں دفتر خارجہ کا کردار نہایت کلیدی رہا ہے۔ نہ صرف نائب وزیراعظم کے دفتر سے بلکہ ترجمان دفتر خارجہ سے بھی ہر دوسرے روز پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے اور ترجمان میڈیا کے سوالات کے جوابات دینے کے لئے بھی دستیاب ہوتے ہیں۔ اسی طرح وزیراعظم آفس کی جانب سے بھی خارجہ تعلقات سے متعلق تفصیلی پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ویوز حاصل کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، اگر کسی وی لاگ پر زیادہ ویوز حاصل کرنا مقصود ہو تو بعض اوقات دو ممالک کے حوالے سے ایسی باتیں کی جاتی ہیں جن سے زیادہ توجہ حاصل ہو اور اس کے نتیجے میں مونیٹائزیشن میں اضافہ ہو۔
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ عرب ممالک اور ایران پاکستان کے لئے اہمیت رکھتے ہیں، ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے جبکہ پاکستان کی پالیسی ہمیشہ سے واضح رہی ہے کہ قومی مفاد سب سے مقدم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی اپنی خارجہ پالیسی ہے اور اسی کے تحت توازن برقرار رکھتے ہوئے مسلم ممالک کے ساتھ ہمارے بہترین تعلقات قائم ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جب ہم دوسروں کو ڈس کریڈٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے خیالات قوم تک پہنچانے کے لئے خارجہ پالیسی کی من مانی تشریحات پیش کرتے ہیں تو یہ مناسب طرز عمل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اطلاعات کی حیثیت سے میرا حلف اور آئین اس بات کا پابند بناتا ہے کہ دفتر خارجہ یا وزیراعظم آفس کی جانب سے جو موقف سامنے آئے، وہ اسی کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بات کریں۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی طور پر کسی معاملے پر ان کی اپنی رائے ہو سکتی ہے لیکن وہ اپنی ذاتی رائے کو آگے منتقل نہیں کرتے اور نہ ہی اسے کسی پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سنسنی پیدا کر کے ویوز حاصل کرنا خطرناک رجحان ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہاں بہت سے ذمہ دار اور باصلاحیت صحافی موجود ہیں اور کئی اینکرز بھی موجودہ صورتحال کے حوالے سے نہایت سنجیدہ اور ذمہ دارانہ انداز میں گفتگو کر رہے ہیں کیونکہ وہ خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں تاہم کسی ملک کے خلاف غیر ضروری بیانات دینے کا جو رجحان پیدا ہو رہا ہے وہ مناسب نہیں ہے کیونکہ خطے کے ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی اور دوستانہ تعلقات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر غیر ضروری تبصرے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں، ان سے بعض ممالک کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ ریاست کی پالیسی ہو کیونکہ ان کے ہاں خارجہ پالیسی کے معاملات پر میڈیا میں آنے والی باتیں عموماً ریاستی موقف سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں احتیاط کی ضرورت ہے، ہماری حب الوطنی اور پاکستان سے محبت کا تقاضا ہے کہ خارجہ پالیسی کو مقامی سیاسی معاملات کی طرح نہ برتا جائے۔ سیاستدان آپس میں ایک دوسرے کی مخالفت بھی کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر تنقید بھی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقامی سیاست کے اپنے ڈائنامکس ہوتے ہیں جہاں سخت تنقید بھی کی جاتی ہے اور یہ سیاسی عمل کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی سیاست میں سو مرتبہ تنقید کی جائے لیکن اگر یہی طرز عمل خارجہ پالیسی کے معاملات پر اختیار کیا جائے گا تو اس سے ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے لہذا خارجہ پالیسی پر بے لاگ تبصروں سے گریز کیا جائے۔











