سندھ طاس معاہدہ قانونی و تاریخی حقیقت : جسے بھارت یکطرفہ طور پر معطل یا اس میں ترمیم نہیں کر سکتا،علینہ مجید

25

اسلام آباد، 20 مارچ( اے پی پی): عالمی یومِ آب کی مناسبت سے منعقدہ تقریب میں پاکستانی مشن کی سیکنڈ سیکرٹری علینہ مجید نے بھارتی نمائندے کے بے بنیاد الزامات کا دوٹوک جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ ایک قانونی اور تاریخی حقیقت ہے جسے بھارت یکطرفہ طور پر معطل یا اس میں ترمیم نہیں کر سکتا۔

 پاکستانی نمائندے نے بھارت کی جانب سے پانی کو سیاسی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے یاد دلایا کہ 2025 میں عدالتِ ثالثی نے بھی اس معاہدے کے نافذ العمل ہونے اور اس کے تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے پابند ہونے کی تصدیق کی ہے، لہٰذا بھارت فوری طور پر اس پر مکمل عملدرآمد کی طرف واپس آئے۔

 علینہ مجید نے دہشت گردی سے متعلق بھارتی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سرحد پار دہشت گردی، مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی جبر اور ٹی ٹی پی و فتنہ الخوارج جیسے گروہوں کی سرپرستی کے ذریعے پاکستان میں ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کے اپنے ریکارڈ کو چھپا نہیں سکتا، جبکہ پاکستان بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی پاسداری کے عزم پر سختی سے قائم ہے۔