نیشنل ہیومن جینوم منصوبہ جینومک خودمختاری کی جانب اہم پیش رفت ثابت ہوگا، مصطفی کمال

15

اسلام آباد، 2 مارچ (اے پی پی): وفاقی وزیرِ صحت مصطفی کمال کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ اور سپیشل سیکرٹری ہیلتھ نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران چیف ایگزیکٹو آفیسر نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے نیشنل ہیومن جینوم منصوبے کے خدوخال اور اس کی اہمیت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ پاکستانی آبادی کے منفرد جینیاتی خدوخال کو سمجھنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

اس موقع پر وفاقی وزیرِ صحت مصطفی کمال نے کہا کہ حقیقی معنوں میں صحت عامہ کا مقصد لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ تھیلیسیمیا جیسی موروثی بیماریوں کی روک تھام اور کم لاگت کے ساتھ درست تشخیص کی فراہمی میں معاون ثابت ہوگا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل ہیومن جینوم منصوبہ ملک کے لیے جینومک خودمختاری کے حصول میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ماہرین کے اشتراک سے ایک جامع عملی حکمت عملی مرتب کرے تاکہ مستقبل قریب میں پاکستان کے عوام جدید جینیاتی طبی سہولیات اور پریسیژن میڈیسن سے مستفید ہو سکیں۔

مصطفی کمال نے مزید کہا کہ عوام کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور حکومت صحت کے شعبے میں جدید تقاضوں کے مطابق اقدامات کر رہی ہے۔