پاکستان میں ٹرانس شپمنٹ میں تاریخی اضافہ، عالمی تجارتی مرکز بننے کی راہ ہموار

12

اسلام آباد، 27 مارچ ( اے پی پی): بدلتے عالمی منظرنامے میں پاکستان محفوظ، مضبوط اور عالمی تجارت و سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش منزل کے طور پر ابھر کر سامنے آ گیا ہے، جبکہ نیٹ سیکیورٹی اسٹیبلائزر کے ساتھ ملک تیزی سے ایک اہم تجارتی حب بن چکا ہے۔

کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ سمیت ملک کی بڑی بندرگاہوں پر سرگرمیوں میں تاریخی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

‎دی پاکستان انڈیکس کے مطابق گزشتہ 24 دنوں کے دوران کراچی پورٹ پر ٹرانس شپمنٹ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا، جو پورے سال کے برابر ہے۔ سال 2025 میں تقریباً 8,300 کنٹینرز ہینڈل کیے گئے جبکہ صرف گزشتہ 24 دنوں میں یہ تعداد 8,313 تک پہنچ گئی۔

‎عرب نیوز کے مطابق خلیجِ عرب میں شپنگ رکاوٹوں کے باعث روٹس کی تبدیلی نے پاکستان میں ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں کو فروغ دیا، پاکستان نے بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے سمندری اور فضائی بندرگاہوں پر کارگو ہینڈلنگ کی اجازت دے دی ہے۔‎ٹریڈ کرونیکلس کے مطابق جنوبی ایشیا پاکستان ٹرمینل نے 5,286، ہچیسن پورٹ نے 1,827 اور کراچی گیٹ وے ٹرمینل نے 1,200 کنٹینرز کی ترسیل مکمل کی۔

‎عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے پاکستان کو ٹرانس شپمنٹ کے مستقل مرکز میں تبدیل ہونے کا سنہری موقع فراہم کیا ہے، جبکہ دنیا پاکستان کو قریبی متبادل کے طور پر بہترین مقام سمجھ رہی ہے۔‎ماہرین کے مطابق ملک میں سیاسی و اقتصادی استحکام اور قیادت کی حکمت عملی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے، جبکہ سی پیک اور جدید انفراسٹرکچر پاکستان کو خطے کا اہم تجارتی و لاجسٹک مرکز بنا رہے ہیں۔

‎پاکستان اب ایک محفوظ اور مستحکم ملک کے طور پر بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقام بن چکا ہے۔