پاکستان کا بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے مضبوط اور غیر امتیازی عالمی تعاون پر زور

15

نیویارک، 17 مارچ )اے پی پی ): پاکستان نے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1540 غیر ریاستی عناصر تک بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بدستور نہایت اہم ہے، اور ایسے مضبوط، باہمی تعاون پر مبنی اور غیر امتیازی طریقۂ کار اپنانے پر زور دیا ہے جو ایک طرف عدم پھیلاؤ کو فروغ دیں اور دوسری جانب تمام ریاستوں کے پُرامن ٹیکنالوجی کے استعمال کے حق کا تحفظ بھی کریں۔

سلامتی کونسل میں 1540 کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، پاکستان کے نائب مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ، سفیر عثمان جدون نے عدم پھیلاؤ کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ پیچیدہ عالمی ماحول، جس میں تنازعات، کشیدگیاں اور سکیورٹی چیلنجز شامل ہیں، میں اس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرارداد 1540 غیر ریاستی عناصر تک بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے عالمی فریم ورک میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر غیر ریاستی عناصر ایسے ہتھیار حاصل کر لیں اور استعمال کریں تو یہ قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہوگا اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو شدید نقصان پہنچائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی اور غیر ریاستی عناصر سے ابھرتے ہوئے خطرات اس امر کے متقاضی ہیں کہ رضاکارانہ بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ اس قرارداد پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

سفیر جدون نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور عالمی تجارت کے ارتقا کے ساتھ ساتھ رکن ممالک کو بھی قرارداد 1540 پر عملدرآمد کے لیے خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اس تناظر میں انہوں نے کہا کہ 1540 کمیٹی ابھرتے ہوئے خطرات کے بارے میں عالمی آگاہی بڑھانے اور اجتماعی ردعمل تشکیل دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

برآمدی کنٹرولز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کثیرالجہتی برآمدی کنٹرول نظام عالمی عدم پھیلاؤ کو مضبوط بنا سکتے ہیں، تاہم انہیں سیاسی یا تجارتی مفادات کے تحت مخصوص گروہوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امتیازی رعایتیں عدم پھیلاؤ کے نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں اور امن و سلامتی کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں غیر امتیازی، معروضی اور اصولی بنیادوں پر مبنی طریقۂ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تزویراتی استحکام برقرار رکھا جا سکے اور ہتھیاروں کی دوڑ سے بچا جا سکے۔

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ عدم پھیلاؤ کی کوششیں دوہری استعمال (ڈوئل یوز) ٹیکنالوجیز کے پُرامن استعمال میں بین الاقوامی تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں، کیونکہ یہ خصوصاً ترقی پذیر ممالک کے لیے معاشی ترقی کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام ممالک کو بین الاقوامی قوانین اور عدم پھیلاؤ کے تقاضوں کے مطابق جوہری توانائی اور متعلقہ ٹیکنالوجیز کے پُرامن استعمال کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔

سفیر جدون نے کہا کہ پاکستان 1540 کمیٹی کے کام میں، بشمول جاری جامع جائزے کے، فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے ماہرین کے گروپ کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ ماہرین کی تقرری میرٹ، مہارت اور جغرافیائی نمائندگی کی بنیاد پر ہونی چاہیے، اور خالی آسامیوں کو اسی اصول کے تحت پُر کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی عدم پھیلاؤ اور قرارداد 1540 کے مقاصد کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔