پاکستان کا یوکرین تنازع کے حل کے لیے بامعنی اور منظم مذاکرات کی بحالی پر زور

12

اقوامِ متحدہ، 23 مارچ( اے پی پی): پاکستان نے یوکرین میں فوری جنگ بندی کی اپنی اپیل کا اعادہ کرتے ہوئے بامقصد، مسلسل اور منظم مذاکرات کی بحالی پر زور دیا ہے، اور اس بات پر تاکید کی ہے کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں اور پائیدار امن صرف اقوامِ متحدہ کے منشور کی بنیاد پر مکالمے کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

یہ بات اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں یوکرین پر بریفنگ کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہی۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین تنازع، جو اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکا ہے، نے انسانی جانوں، روزگار، معیشتوں اور پورے خطوں پر بھاری قیمت عائد کی ہے، جس کے نتیجے میں تقسیم میں اضافہ، کثیرالجہتی نظام پر دباؤ اور پرامن حل کی کوششیں مزید پیچیدہ ہو گئی ہیں۔

انہوں نے انسانی بحران کے پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عام شہری بدستور اس جنگ کا سب سے زیادہ خمیازہ بھگت رہے ہیں، جنہیں جانی نقصان، نقل مکانی اور گھروں و بنیادی ڈھانچے کی تباہی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاری انسانی تکالیف اس بات کی متقاضی ہیں کہ انسانی وقار کا تحفظ کیا جائے، شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور پرامن حل کو ترجیح دی جائے۔

مستقل مندوب نے کہا کہ پاکستان نے ابتدا ہی سے سفارتی عمل کی حمایت کی ہے اور اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ایک منصفانہ اور دیرپا امن ممکن ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے 2022 میں استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے دوران بھی مکالمے کی حمایت کی تھی، اور اس کے بعد کی امن کوششوں، بشمول گزشتہ سال فروری میں منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد 2774 اور ریاستہائے متحدہ کی سہولت کاری میں جاری مذاکراتی عمل، کی بھی تائید جاری رکھی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک علیحدہ اور قابلِ اجتناب بحران نے یوکرین کے مذاکراتی عمل کو متاثر کیا ہے، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کا اگلا دور جلد از جلد منعقد ہوگا۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ حقیقی سیاسی عزم کا مظاہرہ کریں، باہمی اعتماد کو فروغ دیں اور تعمیری انداز میں ایک متفقہ حل کی جانب پیش رفت کریں، جس کا آغاز فوری جنگ بندی سے کیا جائے۔

اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے عالمی سطح پر تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور یوکرین سمیت دیگر خطوں میں بھی تحمل، کشیدگی میں کمی اور مکالمے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کا مکمل احترام یقینی بنایا جا سکے۔