اسلام آباد، 15 اپریل (اے پی پی): صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں آبی وسائل کے انتظام پر اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرکے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا سنگین معاملہ ہے۔
صدر نے کہا کہ پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش تشویشناک ہے۔ انہوں نے پاکستان کے پانی کے حقوق کے تحفظ اور تمام ضروری سفارتی و قانونی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔
علاقائی صورتحال سے منسلک توانائی کی قلت پر بات کرتے ہوئے صدر مملکت نے ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کم سے کم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ لوڈ مینجمنٹ سختی سے شفاف اور اعلانیہ طریقے سے کی جائے اور عوام کو پہلے سے آگاہ کیا جائے تاکہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا ہو۔
صدر نے ملک بھر میں پانی کے تحفظ کی کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے گھریلو، تجارتی اور صنعتی سطح پر بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر فوری عملدرآمد کا کہا اور چھوٹے ڈیموں، ریچارج کنوؤں اور پانی ذخیرہ کرنے کے انفراسٹرکچر کی تعمیر میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔ صدر نے کہا کہ موجودہ علاقائی حالات میں پانی کا تحفظ قومی ضرورت ہے۔
اجلاس میں وسیع تر علاقائی پیش رفت پر بھی بات ہوئی۔ صدر نے کہا کہ خطے میں استحکام ضروری ہے اور انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ پاکستان کی تعمیری مصروفیات اور مسلسل کوششوں سے ایران سے متعلق بدلتی صورتحال میں قابل عمل راستہ نکل آئے گا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل محمد معین وٹو، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال چوہدری، وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ خان، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سینیٹر شیری رحمان، سیکرٹری آبی وسائل، چیئرمین واپڈا اور پاکستانی کمشنر برائے انڈس واٹر بھی شریک تھے۔











