ای کامرس اور اسکلز ڈویلپمنٹ برآمدات میں اضافے کے لیے کلیدی عناصر ہیں، وفاقی وزیر جام کمال خان

11

اسلام آباد، 21 اپریل (اے پی پی)وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے معروف بزنس مین تیمور صدیق کی قیادت میں آئے کاروباری وفد سے ملاقات کی، جس میں ملکی برآمدات کے فروغ اور کاروباری ماحول کی بہتری سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران ای کامرس اور اسکلز ڈویلپمنٹ کو برآمدات بڑھانے کے لیے کلیدی عناصر قرار دیا گیا۔ اس موقع پر پارلیمانی سیکرٹری برائے ثقافت و سیاحت بلوچستان نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی بھی شریک ہوئے، جہاں بلوچستان میں ہنر مندی اور سیاحت کے فروغ پر بھی گفتگو کی گئی۔

وفاقی وزیر تجارت نے کہا کہ ای کامرس، اسکلز ٹریننگ اور معیشت کی دستاویزی شکل اختیار کرنے سے برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے پاس ٹیکسٹائل، لیدر اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں ترقی کی مضبوط بنیاد موجود ہے، جسے مزید مؤثر پالیسی اقدامات کے ذریعے وسعت دی جا سکتی ہے۔

جام کمال خان نے کہا کہ مقامی ہنر کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور پالیسی سپورٹ ناگزیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کے ذریعے خواتین کو روزگار اور برآمدی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، تاہم صرف تربیت کافی نہیں بلکہ مقامی مصنوعات کو ای کامرس کے ذریعے عالمی خریداروں تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل تجارت نے دور دراز علاقوں کے لیے نئی برآمدی راہیں کھولی ہیں، جبکہ قالین بافی اور دستکاری جیسی روایتی صنعتیں بھی ای کامرس کے ذریعے دوبارہ فروغ پا سکتی ہیں۔

وفاقی وزیر نے نشاندہی کی کہ غیر دستاویزی معیشت ٹیکس ادا کرنے والے کاروبار کے لیے غیر منصفانہ مقابلہ پیدا کرتی ہے، جس کے تدارک کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کو درپیش ریگولیٹری مسائل اور ٹیکس ریفنڈز کے معاملات حل کرنے پر کام جاری ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پبلک پرائیویٹ شراکت داری اور ڈیجیٹل اکانومی کے فروغ کے ذریعے ملک میں کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔