لاہور، 16 اپریل (اے پی پی ): بیساکھی میلہ اور 327 ویں خالصہ جنم دن کی تقریبات کے سلسلے میں بھارت سے واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان آنے والے سکھ یاتریوں نے گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور میں اپنی مذہبی رسومات ادا کیں۔ اس موقع پر پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی، پی ایم یو کرتار پور اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے اشتراک سے یاتریوں کے اعزاز میں ایک روایتی کبڈی ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا گیا جس میں بھارت سمیت دنیا بھر سے آئے یاتریوں نے بھرپور شرکت کی۔ کبڈی ٹورنامنٹ میں پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی سردار رمیش سنگھ اروڑہ، سی ای او ابو بکر آفتاب قریشی ،ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز ناصر مشتاق ،ڈی پی او ڈی سی نارووال نے شرکت کی ۔
ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز متروکہ وقف املاک بورڈ ناصر مشتاق نے میڈیا کے نمائندوں سےکرتے ہوئے کہا کہ یاتریوں کی میزبانی اور خدمت کے ذریعے ہم دنیا بھر میں امن و محبت کا پیغام پہنچا رہے ہیں، کیونکہ ایسے ثقافتی پروگرام اقوام کے درمیان تعلقات کو مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
پردھان پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی سردار رمیش سنگھ اروڑہ نے کہا کہ پاکستان نہ صرف خطے میں بلکہ پوری دنیا میں امن کا خواہاں ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سکھوں کا پہلا گھر ہے۔انہوں نے کبڈی کو پنجاب کا ثقافتی ورثہ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ کرتارپور راہداری کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ بھارت سے کرتارپور راہداری کے راستے با آسانی یاترا کر سکیں۔
کبڈی ٹورنامنٹ یو کے کبڈی کلب اور گنگ کبڈی کلب کے درمیان کھیلا گیا ۔کبڈی میچ کے دوران یاتریوں کا جوش و خروش دیدنی تھا اور گورودوارہ دربار صاحب کا احاطہ “بولے سو نہال” اور “پاکستان زندہ باد” کے نعروں سے گونج اٹھا۔ یاتریوں نے ڈھول کی تھاپ بھنگڑا ڈالا۔
بھارتی سکھ یاتریوں کے جتھہ لیڈر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے متروکہ وقف املاک بورڈ اور انتظامیہ کی جانب سے سیکیورٹی، رہائش اور طبی سہولیات کے بہترین انتظامات کو سراہا۔اور چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ قمرالزمان ، سیکورٹی فورسز اور ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا ۔ڈپٹی کمشنر نارووال اور دیگر ضلعی انتظامیہ کے افسران نے شرکت کی۔
یاتریوں کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان سے ملنے والے عزت و احترام اور امن کے پیغام کو پوری دنیا میں عام کریں گے۔شیڈول کے مطابق سکھ یاتری 17 اپریل کو گوردوارہ روہڑی صاحب ایمن آباد کی زیارت کے بعد لاہور پہنچیں گے، جہاں دو روز قیام کے بعد 19 اپریل کو واہگہ بارڈر کے راستے واپس بھارت روانہ ہوں گے۔











