لاہور،27اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کرنا اولین ترجیح ہے ،وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے تحت عوام کو معیاری سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹھوس اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں، ملک کو ترقی دینی ہے تو ریلوے کو مستحکم اور جدید بنانا ہوگا،نئے ٹریک کی تکمیل سے لاہور سے راولپنڈی کا سفر 2 گھنٹے 20 منٹ میں طے ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز پاکستان ریلویز ہیڈکوارٹرز لاہور میں قائم جدید و اپ گریڈ ریزرویشن آفس اور ڈیجیٹل سینٹرل کنٹرول آفس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر چیئرمین پاکستان ریلوے سید مظہر علی شاہ سمیت دیگر افسران بھی وفاقی وزیر کے ہمراہ موجود تھے۔وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان ریلوے کو جدید خطوط پر استوار کرنا میری اولین ترجیح ہے جس کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں،وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق عوام کو معیاری اور آرام دہ سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریلوے ایک سٹریٹجک اثاثہ ہے جسے منافع بخش بنانے کے لیے تمام تقاضے پورے کرنا ضروری ہیں،ملک کو ترقی دینی ہے تو ریلوے کو مستحکم اور جدید بنانا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا وژن واضح ہے اب پیچھے مڑ کے نہیں دیکھنا اور پاکستان ریلوے کو ایک جدید، خود کفیل اور ڈیجیٹل ادارہ بنانا ہے۔حنیف عباسی نے کہا کہ حکومت نے 78 سالہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ٹریک کی بحالی پر کام شروع کیا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب اور ریلوے نے ایک تاریخی قراردادِ مفاہمت پر دستخط کر دئیے ہیں، جس کے تحت پنجاب میں ریلوے ٹرانسپورٹ کے ایک نئے اور جدید عہد کا آغاز ہونے جا رہا ہے، لاہور اور راولپنڈی کا ٹریک تیار کر رہے ہیں ، نئے ٹریک پر دو گھنٹے 20 منٹ میں لاہور سے راولپنڈی کا سفر طے ہوگا۔وزیر ریلوے نے کہا کہ روہڑی ٹریک پر بھی کام جاری ہے اور ستمبر تک 480 کلو میٹر طویل اس ٹریک پر کام مکمل ہو جائے گا، 14 اگست کو پیپلز ٹرین کا افتتاح کرنے جا رہے ہیں۔حنیف عباسی نے کہا کہ اس وقت پاکستان ریلویز میں کوئی کام ایسا نہیں جو نہ ہو رہا ہو، پاکستان ریلویز کا مسئلہ سب کو پتہ ہے، سب سے بڑا مسئلہ ریلوے ٹریک ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون کی بات ہوتی ہے اس پر تمام صوبوں کے پاس گئے ہیں، تمام صوبوں کو ساتھ ملا کر چل رہے ہیں، وزیراعلی ٰسندھ بھی جلد ایم او یو پر دستخط کرنے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ راولپنڈی، لاہور اور ملتان میں سٹیشن بننے جا رہے ہیں، تمام بڑے سٹیشنز پر وائی فائی لگانے جا رہے ہیں، مارکیٹ ڈیپارٹمنٹ کو بدل رہے ہیں جبکہ آٹو وہیکل کو ٹرانسپورٹ کرنے پر کام کر رہے ہیں۔وزیر ریلوے نے کہا کہ عوام ایکسپریس کے نئے ریک نکلنے جا رہے ہیں، پشاور کے لیے عوامی ایکسپریس 30 مئی سے جدید کر دی جائے گی اور 4 نئے ریک کی صورت میں نئی کوچیز لگائی جائیں گی جو پشاور کے عوام کے لیے ایک تحفہ ہو گا، اسی طرح علامہ اقبال ایکسپریس کو بھی اپ گریڈ کریں گے ۔ حنیف عباسی نے مزید کہا کہ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر جلد بیوٹی فکیشن سمیت دیگر اصلاحات بھی کی جائیں گی، ریلوے کالونیوں میں صفائی کے لیے ستھرا پنجاب مہم کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کی توقعات پر پورا اترنے کیلئے مسافرٹرینوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا جس کے لیے نئی بوگیاں تیار کی جا رہی ہیں، 30 جون تک تمام اہداف ہر صورت مکمل کیے جائیں گے اور مالی سال کے بقیہ 70 دنوں میں کارکردگی کو مزید تیز کیا جائے گا۔حنیف عباسی نے کہا کہ پاور وین کے پرزہ جات فوری منگوانے اور کوچز کو فعال بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے، بدقسمتی سے ماضی میں 9 سال سے لوکو موٹیووز کی مینٹیننس نہیں ہوئی ،لوکوموٹیوز کے ٹریکشن موٹرز کی جلد بحالی اور تاخیر کے شکار پرزہ جات جلد منگوانے کی بھی ہدایت کر دی گئی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ سیف اینڈسمارٹ سٹیشنز اور جدید کنٹرول آفسز کے قیام سے ریلوے کو مزید ڈیجیٹل بنایا جائے گا، لاہور اسٹیشن کے بعد اگلے مرحلے میں کراچی کینٹ اسٹیشن کو جدید بنایا جائے گا۔محمد حنیف عباسی نے کہا کہ قبضہ مافیا کے خلاف بھی بھرپور کارروائی جاری ہے اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں کروڑوں روپے کی قیمتی ریلوے اراضی واگزار کروائی جا چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرینوں کی وقت کی پابندی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ، 31 دسمبر تک دو نئی انوویشنز متعارف کرائی جائیں گی۔وفاقی وزیر نے فریٹ آپریشن کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جون تک 43 کے قریب انجن استعمال کریں گے ،وزیر اعظم کی ہدایت پر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کے اضافے کے باوجود ریلوے کرایوں میں زیادہ اضافہ نہیں کیا ،کوشش ہے کہ ریلوے آمدن کا 80 فیصد فریٹ ٹرینوں سے اور 20 فیصد پسنجر ٹرینوں سے پورا کریں۔وزیرِ ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ پنجاب بھر میں ریلوے حادثات کے سدباب کے لیے خودکار سسٹم لایا جا رہا ہے،اس کے علاوہ لاہور ریلوے سٹیشن کی حالتِ زار بدلنے کے لیے اسے عالمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے گا۔وفاقی وزیر حنیف عباسی نے وزیراعلیٰ مریم نواز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ریلوے میں کسی نے سرمایہ کاری نہیں کی لیکن اب وزیراعلی ٰکی نگرانی میں ریلوے کی تاریخ بدلی جا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے خواہش ظاہر کی کہ عوام کو یورپ کی طرز پر بہترین اور محفوظ ٹرانسپورٹ مہیا کی جائے۔ قبل ازیں وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ریلویز ہیڈکوارٹرز لاہور میں قائم جدید و اپ گریڈ ریزرویشن آفس اور ڈیجیٹل سینٹرل کنٹرول آفس کا افتتاح کیا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلویز کو ڈیجیٹل کرنے کا ٹاسک ہمیں وزیراعظم نے دیا، آج جو کنٹرول روم ہے یہ سٹیٹ آف دی آرٹ ہے، اس کے علاوہ 7 مزید روم بھی بنائے جائیں گے اور ایف ڈبلیو او بھی اس میں ہمارے ساتھ کام کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج پاکستان ریلوے نے مسافروں کو بہتر، آرام دہ اور جدید سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں ہیڈکوارٹر کے ریزرویشن آفس کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کر دیا ہے،اس اقدام کا مقصد ٹکٹنگ کے نظام کو موثر بنانا اور عوام کو معیاری سہولیات فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپ گریڈیشن کے تحت ریزرویشن آفس کی مکمل تزئین و آرائش کی گئی ہے اور اسے جدید و دیدہ زیب انٹیریئر ڈیزائن سے آراستہ کیا گیا ہے، مسافروں کی سہولت کے لیے 15 منظم ٹکٹنگ کاونٹرز قائم کیے گئے ہیں جن میں خواتین، مرد حضرات اور بزرگ شہریوں کے لیے علیحدہ کاؤنٹرز مختص کیے گئے ہیں جبکہ مسافروں کی رہنمائی کے لیے ایک علیحدہ انفارمیشن ڈیسک بھی قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آفس کو مکمل طور پر ایئر کنڈیشنڈ بنایا گیا ہے جہاں 30 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے،جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بینکوں اور ملٹی نیشنل اداروں کی طرز پر کیومیٹک (ٹوکن) سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے تاکہ مسافروں کو منظم اور بروقت خدمات فراہم کی جا سکیں۔مزید سہولیات میں جدید سینیٹری سسٹم کے ساتھ خواتین و حضرات کے لیے علیحدہ واش رومز، سکیورٹی کے لیے کیمروں کا نظام، اور صارفین کے لیے مفت وائی فائی کی فراہمی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کے اس اقدام سے نہ صرف مسافروں کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی بلکہ ٹکٹنگ کے نظام میں شفافیت، تیزی اور بہتری بھی آئے گی۔اسی طرح پاکستان ریلوے نے جدت کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ڈیجیٹل سنٹرل کنٹرول آفس بھی قائم کر دیا ہے، جو ریل کے نظام کو مزید محفوظ، موثر اور مکمل طور پر مربوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔یہ جدید مرکز (ریلوے ایڈوانس انفراسٹرکچر نیٹ ورک) منصوبے کے تحت قائم کیا گیا ہے۔یہ سٹیٹ آف دی آرٹ کنٹرول روم ملک بھر میں ریلوے آپریشنز کی ریئل ٹائم نگرانی ممکن بنائے گا، جس کے ذریعے ڈیٹا پر مبنی فیصلے اور مربوط نظام کو فروغ دیا جائے گا۔ اس جدید مرکز کے ذریعے مسافر ٹرینوں کی آمدورفت، مال بردار ٹرینوں کی نقل و حرکت اور لاجسٹکس کے نظام پر مسلسل نظر رکھی جائے گی۔اس کے ساتھ ساتھ سیف اینڈ سمارٹ ریلوے سٹیشنز کے ذریعے پلیٹ فارمز کی لائیو مانیٹرنگ، مرکزی ٹرین ڈسپیچ سسٹم کا کنٹرول، مکمل ٹرین سرویلنس نظام اور انجنز سمیت دیگر ریلوے اثاثوں کی ریئل ٹائم ٹریکنگ بھی ممکن ہو سکے گی۔یہ مرکزی کنٹرول حب آپریشنل کارکردگی میں نمایاں بہتری لائے گا، مسافروں کے تحفظ اور سکیورٹی کو مزید مضبوط بنائے گا اور ٹرینوں کی وقت کی پابندی اور سروس کے معیار کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا، انفراسٹرکچر اور اثاثوں کی موثر نگرانی کے ذریعے وسائل کے بہتر استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔ حنیف عباسی نے کہا کہ ڈیجیٹل سنٹرل کنٹرول آفس پاکستان ریلوے کے اس عزم کا مظہر ہے کہ ادارہ جدید ٹیکنالوجی، شفافیت اور اعلیٰ معیار کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔











