اسلام آباد،17اپریل (اے پی پی):سعودی عرب کے نائب وزیر زراعت ڈاکٹر سلیمان بن علی الخطیب نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زراعت، پانی کے انتظام اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اسے پائیدار ترقی اور طویل مدتی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہاراسلام آباد میں ”گرین پاکستان انیشی ایٹو” کے تحت تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیاجس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
ڈاکٹر الخطیب نے اس موقع کو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے اور دیرینہ تعلقات کی عکاسی قرار دیا اور پاکستانی حکومت کی میزبانی اور باہمی تعاون کے جذبے کو سراہا جو سعودی وژن 2030 کے مطابق دوطرفہ تعلقات کی رہنمائی کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام محض ایک زرعی منصوبے کا آغاز نہیں بلکہ ایک مشترکہ وژن ہے جس کا مقصد عملی ترقیاتی کوششوں کی حمایت، زرعی نظام کو مضبوط بنانا، وسائل کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا اور مقامی کمیونٹیز کے لیے بہتر مواقع پیدا کرنا ہے۔ عالمی چیلنجز، خصوصاً پانی کی کمی اور غذائی تحفظ پر روشنی ڈالتے ہوئے سعودی نائب وزیر نے کہا کہ ایک غذائی درآمد کنندہ ملک ہونے کے ناطے سعودی عرب اس بات کو بخوبی سمجھتا ہے کہ پیداواری، مؤثر اور مضبوط زرعی نظام کی تشکیل کیوں ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجیز اور عملی حل پانی کے مؤثر استعمال اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے انتہائی اہم ہیں اور سعودی عرب پاکستان کے ساتھ سینٹر پیوٹ آبپاشی نظام میں اپنے تجربات شیئر کرنے کو مفید سمجھتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی ٹیکنالوجی آبپاشی کی کارکردگی بہتر بنانے اور فصلوں، خصوصاً گندم کی پیداوار میں اضافہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے جو دونوں ممالک میں بنیادی غذا اور غذائی تحفظ کا اہم جزو ہے۔ڈاکٹر الخطیب نے مزید کہا کہ تعاون کے دیگر شعبوں میں سبز چارہ، چاول کی کاشت، مویشیوں کی ترقی اور پھلوں و خشک میوہ جات کی پیداوار شامل ہیں اور ان شعبوں میں اشتراک دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہوگا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانا، نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں اضافہ اور حکومتی حمایت کا تسلسل ضروری ہے تاکہ طویل مدتی زرعی ترقی کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل مکالمے اور حکومتوں، اداروں اور نجی شعبے کے درمیان عملی تعاون کے ذریعے دونوں ممالک مشترکہ اہداف حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی عوام کے لیے دیرپا فوائد فراہم کر سکتے ہیں۔
اس سے قبل ڈائریکٹر جنرل اسٹریٹجک پراجیکٹس میجر جنرل شاہد نذیر نے شرکاکو منصوبے کے دائرہ کار، چیلنجز اور متوقع نتائج سے آگاہ کیا جبکہ ڈائریکٹر جنرل ویلفیئر اینڈ ری ہیبیلی ٹیشن میجر جنرل دلاور خان نے منصوبے کے وژن پر روشنی ڈالی اور اس کی پیش رفت کا سہرا فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی ولی عہد و وزیر اعظم محمد بن سلمان کی قیادت کو دیا۔
میجر جنرل شاہد نذیر نے بتایا کہ گرین پاکستان انیشی ایٹو کے شراکت دار پینٹیرا فارمز کے تعاون سے صرف تین ماہ کی ریکارڈ مدت میں سینٹر پیوٹ آبپاشی نظام نصب کیے گئے جس کے نتیجے میں تقریباً 1500 ایکڑ بنجر زمین کو قابلِ کاشت زمین میں تبدیل کر دیا گیا۔تقریب کے اختتام پر سعودی وفد اور پاکستانی حکام کے درمیان یادگاری تحائف کا تبادلہ بھی ہوا۔











