اسلام آباد، 8 اپریل (اے پی پی): سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز سے متعلق مسودہ قرارداد پر ووٹنگ کے بعد پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے توضیحی بیان میں کہا ہے کہ پاکستان خلیجی ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی اور غیر متزلزل حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحرین، سعودی عرب، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات، سلطنت عمان اور اردن جیسے ممالک اگرچہ مشرق وسطیٰ کے جاری تنازع کے براہ راست فریق نہیں تاہم اس کے اثرات سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ پاکستان ان ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔
سفیر نے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم بحری گزرگاہ ہے اور پاکستان جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی، شہری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت اور معمول کی بحری سرگرمیوں کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے اثرات عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں جبکہ جنوبی ایشیا کی بڑی آبادی اس کے بوجھ کو برداشت کر رہی ہے۔ کشیدگی کے باعث توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے جس کے اثرات کھاد، خوراک اور دیگر ضروری اشیاء تک پھیل رہے ہیں جس سے مہنگائی میں اضافہ اور کمزور طبقات پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے بحرین کی جانب سے پیش کردہ مسودہ قرارداد پر کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس کے بنیادی مؤقف کی حمایت کرتا ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو جلد کھولنا اور حالات کو معمول پر لانا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے جائز مفادات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے اور قرارداد 2817 پر مکمل عمل درآمد ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ جاری سفارتی کوششوں کو وقت دیا جانا چاہیے تاکہ مکالمے اور رابطے بحال ہو سکیں۔ پاکستان پائیدار حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور اس مقصد کے لیے علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں تاکہ بحران کے حل کے لیے سفارتی روابط کو مؤثر بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ مشاورت کے بعد ایک پانچ نکاتی لائحہ عمل بھی سامنے آیا ہے جس میں جنگ بندی، امن مذاکرات، شہریوں کا تحفظ، بحری سلامتی کی بحالی اور بین الاقوامی قانون کے تحت پائیدار حل پر زور دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مقصد تنازع کا خاتمہ، اس کے پھیلاؤ کو روکنا اور انسانی جانوں کے مزید ضیاع سے بچاؤ ہے جبکہ ملک خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے اپنی تعمیری کوششیں جاری رکھے گا۔











