اقوامِ متحدہ، 22 اپریل )اے پی پی): پاکستان نے لیبیا کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی وحدت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ لیبیا کی قیادت اور ملکیت میں جاری سیاسی عمل کو تیز کیا جائے، جو دیرپا امن اور استحکام کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیبیا میں اقوامِ متحدہ کے معاونتی مشن سے متعلق بریفنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان لیبیا کو ایک برادر ملک سمجھتا ہے اور سیکریٹری جنرل کی حالیہ رپورٹ کا نوٹس لیا ہے، جس میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ جاری سیاسی، سکیورٹی اور معاشی چیلنجز کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی عمل میں پیش رفت کے لیے انتخابی امور پر اختلافات ختم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے ایوانِ نمائندگان اور ہائی کونسل آف اسٹیٹ کے درمیان اہم انتخابی معاملات—بشمول ہائی نیشنل الیکشن کمیشن کی ازسرِ نو تشکیل اور انتخابی فریم ورک پر اتفاق—میں جاری اختلافات کا ذکر کیا۔ انہوں نے ان خلا کو کم کرنے اور سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کی کاوشوں، خصوصاً اس کے منظم مکالمے اور دو مرحلہ جاتی حکمتِ عملی، کی حمایت کا اظہار کیا۔
سفیر عاصم نے لیبیا کے قانونی اداروں کی مسلسل شمولیت کا نوٹس لیتے ہوئے کی سرپرستی میں قائم عدالتی و قانونی ماہرین کی ثالثی کمیٹی کے کام کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں عدالتی وحدت کے تحفظ، آئینی نگرانی کے استحکام اور قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشی پہلو پائیدار امن کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے لیبیائی قیادت کی جانب سے متحدہ اخراجاتی فریم ورک پر ہونے والے اہم معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ طویل المدتی معاشی استحکام میں مؤثر کردار ادا کرے گا۔
اختتام پر، سفیر عاصم نے کہا کہ پاکستان سلامتی کونسل کے اراکین اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک مستحکم، محفوظ اور متحد لیبیا کے قیام اور لیبیا کی قیادت میں دیرپا امن، استحکام اور خوشحالی کے حصول کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔











