اسلام آباد، 01اپریل (اے پی پی): وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے سمیڈا کلسٹرز اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی میں درپیش چیلنجز کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری برائے صنعت و پیداوار اسد اسلام مہنی، چیف ایگزیکٹو آفیسر سمیڈا نادیہ جے سیٹھ، دفتر خارجہ کے نمائندگان اور مختلف ایس ایم ای کلسٹرز کے اراکین نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ایس ایم ای کلسٹرز کے نمائندگان نے بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کے لیے درپیش ویزا مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایس ایم ای نمائندگان کے ویزا اکثر تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، مسترد کر دیے جاتے ہیں یا زیر التوا رہتے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر پاکستان کی مؤثر نمائندگی متاثر ہوتی ہے اور پاکستانی مصنوعات کو مناسب تشہیر نہیں مل پاتی۔
ان خدشات پر بات کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے سمیڈا، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) اور دفتر خارجہ کے درمیان مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ویزا سے متعلق مسائل کو حل کیا جا سکے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ایس ایم ایز کو بین الاقوامی نمائشوں اور کانفرنسوں میں شرکت کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
معاونِ خصوصی نے دفتر خارجہ میں ایس ایم ایز کے لیے ایک خصوصی فسیلیٹیشن ڈیسک کے قیام کی بھی تجویز دی تاکہ ویزا کے عمل کو آسان بنایا جا سکے اور متعلقہ مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔
وزیراعظم کے وژن کو اجاگر کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ قومی و بین الاقوامی سطح پر ایس ایم ایز کی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں فروغ دیں۔
انہوں نے کہا کہ مناسب سہولیات فراہم کیے جانے کی صورت میں “میڈ اِن پاکستان” مصنوعات عالمی نمائشوں میں نمایاں مقام حاصل کر سکتی ہیں۔
ان مسائل کے بروقت حل کو یقینی بنانے کے لیے سمیڈا، دفتر خارجہ اور ٹی ڈی اے پی کے نمائندگان پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ مزید برآں، سمیڈا کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مختلف ممالک میں تعینات کمرشل اتاشیوں سے رابطہ کر کے پاکستانی ایس ایم ایز کے لیے عالمی سطح پر مواقع پیدا کرے۔ہارون اختر خان نے مزید ہدایت کی کہ دنیا بھر میں تعینات کمرشل اتاشی بین الاقوامی کانفرنسوں اور نمائشوں میں ایس ایم ای مصنوعات اور کلسٹرز کو فعال انداز میں پیش کریں۔
انہوں نے کہا کہ “میڈ اِن پاکستان” مصنوعات کی عالمی سطح پر مؤثر برانڈنگ نہ صرف برآمدات میں اضافہ کرے گی بلکہ ملکی معیشت کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔











