سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت محکمہ زراعت و لائیو اسٹاک کا پری بجٹ جائزہ اجلاس،پگرین ٹریکٹر پروگرام سمیت متعدد اسکیموں پر پیشرفت کا جائزہ

11

لاہور، 24 اپریل (اے پی پی): سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت محکمہ زراعت و لائیو اسٹاک کا پری بجٹ جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ کی کارکردگی اور آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر زراعت و لائیو اسٹاک سید عاشق حسین کرمانی اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے تحت محکمہ زراعت کی 35 اسکیموں کا جائزہ لیا گیا جبکہ کسانوں کے لیے متعارف کرائی گئی 8 خصوصی اسکیموں پر پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔

 بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا “گرین ٹریکٹر پروگرام” شروع کیا جا چکا ہے، جس کے تحت قرعہ اندازی کے ذریعے 22 ہزار ٹریکٹرز سبسڈی پر فراہم کیے گئے۔ مریم اورنگزیب نے بتایا کہ سموگ کے تدارک کے لیے کسانوں کو 6 ہزار سپر سیڈرز فراہم کیے گئے جبکہ 8 لاکھ 10 ہزار کسان کارڈز بھی جاری کیے جا چکے ہیں۔ ا

نہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق زراعت میں نجی شعبے کے ساتھ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے اور ایگری ٹرانسفورمیشن منصوبے کے تحت زرعی میکانائزیشن، ویلیو چین اور ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب میں جدید ایگرو پراسیسنگ یونٹس کے قیام، زرعی اجناس کو ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی صورت میں مارکیٹ میں لانے، اور کولڈ چین و لاجسٹکس نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات جاری ہیں، جس سے پھلوں اور سبزیوں سمیت دیگر اجناس کے تحفظ میں بہتری آئے گی۔

 سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن سے توانائی کے اخراجات کم کیے جا رہے ہیں جبکہ ماڈل ایگریکلچر مالز کے قیام کے ذریعے کسانوں کو ایک ہی جگہ بیج، کھاد، مشینری اور فنی رہنمائی فراہم کی جائے گی۔ زرعی گریجویٹس انٹرن شپ پروگرام کے تحت 3 ہزار نوجوانوں کی بھرتی کی جا چکی ہے جو کسانوں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ صوبے میں پہلی بار تھریشرز کی مقامی سطح پر تیاری شروع ہو چکی ہے جبکہ ہائی ٹیک پروگرام کے تحت بیلرز، ٹریکٹرز، سپر سیڈرز، ہارویسٹرز اور تھریشرز سبسڈی پر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ سٹبل برننگ سیزن سے قبل ہارویسٹرز کی تعداد دوگنا کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں محکمہ زراعت کی 14 اسکیموں کو آئندہ مالی سال میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا جبکہ تھل کے لیے کلائمیٹ ریزیلینٹ ایگریکلچرل پروگرام اور لائیو اسٹاک کی 17 اسکیموں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بتایا گیا کہ لائیو اسٹاک کارڈز کی تعداد 3 لاکھ سے بڑھا کر 6 لاکھ کی جا رہی ہے جبکہ دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانے کے لیے 3 سالہ منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ دیہی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے خصوصی اسکیم پر بھی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔

 اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو برسوں میں وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے تحت زراعت و لائیو اسٹاک کے بجٹ کو دوگنا کر دیا گیا ہے اور اس دوران تقریباً 50 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا وژن کسان کو خودمختار بنانا، لاگت کم کرنا اور پیداوار میں اضافہ کرنا ہے، جس کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔