میری ٹائم سینٹر آف ایکسیلنس کے زیر اہتمام “ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مستقبل کی جنگ” پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر

14

کراچی، 23 اپریل (اے پی پی): میری ٹائم سینٹر آف ایکسیلنس کے زیر اہتمام “ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مستقبل کی جنگ” کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کراچی میں اختتام پذیر ہو گئی۔

کانفرنس کا مقصد بحری ماہرین، اکیڈمی اور دفاعی صنعت کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا تھا تاکہ بدلتے ہوئے جیو اسٹریٹجک رجحانات اور جدید جنگ پر ٹیکنالوجی کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، این آئی، این آئی (ایم)، ٹی بی ٹی نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیول چیف نے جدت، موافقت اور آپریشنل افادیت کے فروغ کے لیے صنعت، صارفین اور اکیڈمی کے درمیان قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کا تعاون مقامی سطح پر تیاری اور خود انحصاری کو فروغ دے گا اور پاکستان کے لیے ایک مؤثر لاگت اور عالمی سطح پر مسابقتی دفاعی ایکو سسٹم کی تعمیر میں مددگار ثابت ہو گا جس میں برآمدی صلاحیت بھی موجود ہو گی۔

ایڈمرل نوید اشرف نے بحر ہند کو ایک اہم خطہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی تجارتی بہاؤ میں اس کے وسیع کردار کی وجہ سے مستقبل کی جنگ یہیں لکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بحر ہند میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی چین، توانائی کی قیمتوں اور اس سے منسلک معیشتوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔

کانفرنس میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی کہ جدید ٹیکنالوجیز کے سول اور ملٹری استعمال کے درمیان لکیر دھندلی ہو رہی ہے، جو پاکستان کے دفاعی ایکو سسٹم کے لیے مواقع اور چیلنجز دونوں پیدا کر رہی ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ تیز رفتار تکنیکی جدت جنگ کے تصورات، فورس اسٹرکچر اور نتائج کو از سر نو متعین کر کے جنگ کی نوعیت تبدیل کر رہی ہے۔

تقریب میں سینئر عسکری قیادت، پالیسی سازوں، سفارتکاروں، ماہرین تعلیم، صنعتی ماہرین اور مختلف جامعات کے طلبہ نے شرکت کی۔ کانفرنس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ ٹیکنالوجی سے چلنے والی تبدیلیوں سے نمٹنے اور مستقبل کی جنگ کے رجحانات سے استفادہ کرنے کے لیے مسلسل فکری ہم آہنگی ناگزیر ہے۔