اسلام آباد، 7 اپریل (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ٹیرف کمیشن کی معیاری کارکردگی کے لیے اصلاحاتی اقدامات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن کی ادارہ جاتی تنظیم نو کے بعد اس کی فعال کارکردگی ملکی صنعت اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کمیشن کے قانونی اور انتظامی مسائل کو صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے تناظر میں جامع حکمت عملی کے تحت حل کیا جائے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ نیشنل ٹیرف کمیشن کی تمام سرگرمیوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کر کے شفافیت اور معیار کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کی سہولت یقینی بنائے اور انہیں قانونی و دیگر پیچیدگیوں سے بچانے کے لیے خصوصی اقدامات کرے۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ ادارے کی تنظیم نو اور کارکردگی کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے دنیا میں رائج بہترین طریقہ کار کا جائزہ لیا جائے جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید طریقوں کے استعمال سے ادارے میں جدت کو فروغ دیا جائے۔
وزیراعظم نے نیشنل ٹیرف کمیشن اپیلٹ ٹریبونل میں قانونی پیچیدگیوں کو آسان بنانے اور کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کی افرادی قوت اور عملہ بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت یافتہ ہونا چاہیے اور اصلاحاتی اقدامات پر عملی رہنمائی کے لیے پیشہ ور ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ نیشنل ٹیرف کمیشن میں کیسز کی تاخیر کسی صورت قابل برداشت نہیں اور ایسا نظام وضع کیا جائے جس کے تحت تمام کیسز کو مقررہ وقت میں نمٹایا جا سکے۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ وزیراعظم سے منظور شدہ روڈ میپ کے مطابق نیشنل ٹیرف کمیشن میں ادارہ جاتی، قانونی اور انتظامی تنظیم نو پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔











