اسلام آباد،28اپریل (اے پی پی):چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے کہا ہے کہ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت مختلف شعبوں میں کم از کم 35 فیصد خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا، وزیراعظم یوتھ بزنس اور ایگریکلچر لون اسکیم میں خواتین کے لیے 25 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ایس آئی اے سمٹ 2.0 میں بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس سمٹ کا عنوان ’’پاکستان میں خواتین کی قیادت میں سماجی کاروباری نظام کی تشکیل‘‘ تھا جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔اپنے خطاب میں چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے سوشل انوویشن اکیڈمی اور اس کے شراکت داروں جن میں بی پی ایف، یو این ویمن، او جی ڈی سی ایل اور دیگرآرگنائزیشن کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے پاکستان کی معاشی ترقی میں نوجوانوں اور خصوصاً خواتین کے اہم کردار پر زور دیا اور کہا کہ یہ پلیٹ فارم خواتین کی قیادت میں اقدامات کو فروغ دینے اور معاشرتی بہتری کے لئے نہایت اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت ترقی اور عالمی سطح پر اپنی جگہ دوبارہ حاصل کرنے کے ایک اہم مرحلے میں ہے، یہ وقت ہے کہ پاکستان کے نوجوان خاص طور پر خواتین آگے بڑھیں اور معاشی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔رانا مشہود احمد خان نے اپنے سابقہ تجربات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اس وقت بھی خواتین کے بااختیار بنانے کے منصوبوں کا حصہ رہے ہیں جب وزیراعظم شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات نے صوبے میں خواتین کی شمولیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانا پاکستان کی معاشی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے عالمی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ جب خواتین کو زیادہ مواقع دیئے جاتے ہیں تو ملکی معیشت میں نمایاں بہتری آتی ہےمثلاً انڈونیشیا میں جب خواتین کو 50 فیصد نمائندگی دی گئی تو اس کے جی ڈی پی میں 4 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور اب پاکستان کو بھی اس سمت میں آگے بڑھنا چاہئے۔انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کی پہلی نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کو وفاقی کابینہ سے منظوری مل چکی ہے اور جلد اس کا اجرا ء کیا جائے گا۔ اس پالیسی کے تحت مختلف شعبوں میں کم از کم 35 فیصد خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا۔اس کے علاوہ وزیراعظم یوتھ بزنس اور ایگریکلچر لون سکیم میں خواتین کے لئے 25 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ پنجاب اور سندھ میں اس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں تاہم دیگر صوبوں میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔خواتین کی مدد کے لئے حکومت خصوصی سہولت مراکز قائم کر رہی ہے جہاں خواتین مل کر کام کر سکیں، نئے خیالات کو فروغ دیں اور اپنے کاروبار شروع کر سکیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ایک ایسا نظام قائم کرنے کے لئے پرعزم ہے جہاں نوجوان اور خواتین ترقی کریں اور پاکستان کی خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔











