وفاقی وزیر تعلیم کا بین الاقوامی کانفرنس میں ابتدائی بچپن کی نشوونما میں سرمایہ کاری پر زور

16

اسلام آباد، 08 اپریل(اے پی پی): وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ابتدائی بچپن کی نشوونما سے متعلق پانچویں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ابتدائی عمر میں سرمایہ کاری انسانی سرمایہ کی تعمیر اور پاکستان کے پائیدار مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر نے معزز مہمانوں، ترقیاتی شراکت داروں، پالیسی سازوں اور ماہرین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی بچپن کی نشوونما محض سماجی شعبے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک قومی سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیدائش سے لے کر آٹھ سال کی عمر تک کا عرصہ بچوں کی ذہنی، جذباتی، جسمانی اور تعلیمی بنیادوں کی تشکیل کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔

وزیر نے پاکستان کے آبادیاتی تناظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک کی بڑی آبادی بچوں پر مشتمل ہے، تاہم ہمیں کم عمری میں اموات، غذائی قلت (سٹنٹنگ)، تعلیمی غربت اور اسکول سے باہر بچوں جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تمام مسائل باہم مربوط ہیں اور ان کے حل کے لیے مربوط اور کثیر شعبہ جاتی حکمت عملی درکار ہے۔

انہوں نے 2017 سے اب تک ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قومی اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے باہمی تعاون سے نیشنل ارلی چائلڈہوڈ ڈویلپمنٹ پالیسی فریم ورک تیار کیا گیا، جو صحت، غذائیت، ابتدائی تعلیم، بچوں کے تحفظ اور سماجی تحفظ جیسے شعبوں میں مربوط اقدامات کے لیے ایک جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پالیسی سازی کے ساتھ ساتھ اس کا مؤثر نفاذ بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ ہر بچے کو، چاہے وہ کسی بھی علاقے یا معاشی پس منظر سے تعلق رکھتا ہو، معیاری ابتدائی سہولیات میسر آ سکیں۔ انہوں نے وزارت کی جانب سے ابتدائی تعلیم کے فروغ، پری پرائمری تعلیم تک رسائی میں اضافے، کلاس رومز کے معیار میں بہتری، اساتذہ کی تربیت اور نصاب کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے اقدامات کو اجاگر کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی بچپن کی نشوونما کے اہداف صرف تعلیم کے ذریعے حاصل نہیں کیے جا سکتے بلکہ اس کے لیے صحت، غذائیت، صفائی، سماجی تحفظ اور کمیونٹی کی شمولیت سمیت تمام شعبوں کی مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔ انہوں نے ایک جامع حکومتی اور سماجی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

معاشی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر نے کہا کہ انسانی سرمایہ پائیدار ترقی، پیداواریت اور جدت کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مضبوط مالی نظم و ضبط اور بہتر عوامی مالیاتی انتظام تعلیم اور ابتدائی بچپن کی نشوونما جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے گنجائش پیدا کرتے ہیں۔

مستقبل کے لائحہ عمل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے ابتدائی بچپن کی نشوونما میں سرکاری سرمایہ کاری بڑھانے، بین الوزارتی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر ربط قائم کرنے، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون بڑھانے اور مؤثر نگرانی و احتساب کے نظام کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کے کردار کو بھی انتہائی اہم قرار دیا اور کہا کہ انہیں بااختیار بنانا بچوں کی بہتر نشوونما کے لیے ضروری ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر نے تمام شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ محض مکالمے تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کریں تاکہ پاکستان بھر کے بچوں کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لائی جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس نئے عزم، مضبوط شراکت داریوں اور ابتدائی بچپن کی نشوونما میں مؤثر سرمایہ کاری کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ آئیں مل کر اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستان کا ہر بچہ صحت مند، محفوظ، باصلاحیت اور سیکھنے کے قابل ہو، کیونکہ جب ہم اپنے بچوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں تو درحقیقت ہم پاکستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔