اسلام آباد 13اپریل( اے پی پی): اسلام آباد میں ایف آئی اے کے افسران کی خصوصی کانفرنس ہوئی جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے ایف آئی اے کے نئے اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، انسپکٹرز اور اسلام آباد تعینات افسران سے ملاقات کی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ نے خود مسائل سنے اور حل کی یقین دہانی کرائی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کے اہم اعلانات جن میں 31 دسمبر 2026 تک ایف آئی اے کو جدید، متحرک اور مؤثر ادارہ بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے ڈی جی ڈاکٹر عثمان انور کی متحرک قیادت میں ایف آئی اے کو فعال ادارہ بنائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے سٹاف کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی جبکہ پروموشن ہر ملازم کا حق ہے، سروس سٹرکچر کو بہتر بنائیں گے اور افسران کی پروموشنز کو یقینی بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے تمام شہداء کے خاندانوں کو پلاٹس دینے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ ویلفیئر کا جامع پلان مرتب کیا جا رہا ہے، جس میں تعلیم، صحت اور دیگر سہولیات شامل ہوں گی اور کہا کہ تمام وسائل فراہم کرنے کے بعد زیرو کرپشن پالیسی پر سختی سے عمل ہوگا، کرپشن میں ملوث عناصر کے لیے کوئی رعایت نہیں ہوگی، ایمانداری سے کام کرنے والے افسران کو مکمل پروٹیکشن اور جاب سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کی افرادی قوت میں اضافہ کیا جائے گا، کیونکہ 2008 کی نفری کے ساتھ موجودہ چیلنجز سے نمٹنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ خامیوں کو دور کرنا اور نظام بہتر بنانا اولین ترجیح ہے جبکہ ” ہارڈننگ دی سٹیٹ“ پالیسی میں ایف آئی اے کا کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے واحد وفاقی ادارہ ہے جو پورے ملک میں وفاقی حکومت کی مؤثر رِٹ قائم کر سکتا ہے، ایف آئی اے کو مضبوط ترین اور قابلِ اعتماد ادارہ بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔
کانفرنس سے ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے بھی خطاب کیا۔ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم آغا بھی اس موقع پر موجود تھے۔











