اقوام متحدہ، 17 اپریل ( اے پی پی): پاکستان نے جنوبی سوڈان میں بگڑتی ہوئی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ نظرثانی شدہ امن معاہدے (Revitalized Peace Agreement) پر نئے عزم کے ساتھ عمل کریں۔ پاکستان نے کہا کہ مسلسل اور مستقل روابط ناگزیر ہیں تاکہ دوبارہ تنازع کے خطرے کو روکا جا سکے اور دسمبر 2026 میں متوقع انتخابات سے قبل ایک قابلِ اعتماد عبوری عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے جنوبی سوڈان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حالیہ پیش رفت امن عمل کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اہم اہداف پر پیش رفت سست ہو گئی ہے اور بعض معاملات میں پیچھے بھی گئی ہے۔
انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جامع اور شمولیتی مکالمے کے ذریعے نظرثانی شدہ امن معاہدے پر مکمل عمل درآمد کے لیے دوبارہ عزم کریں۔ انہوں نے افریقی یونین اور IGAD کے اہم کردار کو بھی اجاگر کیا اور علاقائی کوششوں اور اقوام متحدہ کے درمیان قریبی رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ جنوبی سوڈان کو انتخابات کی جانب بڑھتے ہوئے شدید سیاسی، تکنیکی اور مالی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عبوری سلامتی اقدامات اور ادارہ جاتی تیاریوں میں پیش رفت غیر یکساں ہے جبکہ معاشی اور انسانی ہمدردی کے دباؤ بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ان حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مربوط بین الاقوامی تعاون ضروری ہے تاکہ ایک قابلِ اعتبار عبوری عمل کے لیے سازگار حالات پیدا کیے جا سکیں۔
پاکستانی مندوب نے اقوام متحدہ مشن برائے جنوبی سوڈان کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مشن جانیں بچا رہا ہے اور سیاسی غیر یقینی صورتحال، باہمی کشیدگی، انسانی ضروریات اور سوڈان کے تنازع سے جڑے علاقائی اثرات کے تناظر میں ایک اہم استحکام کار کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی رسائی میں کا کردار انتہائی اہم ہے۔
پاکستان کے امن مشن میں بطور ایک نمایاں فوجی دستہ فراہم کرنے والے ملک کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے سفیر عاصم نے UNMISS اور اس کے مینڈیٹ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بینٹیو میں، جہاں 3 لاکھ سے زائد افراد شدید سیلاب سے متاثر ہیں، پاکستانی امن دستوں، بشمول انجینئرز نے 80 کلومیٹر سے زائد حفاظتی پشتے اور بند تعمیر اور برقرار رکھے ہیں، جس سے بے گھر افراد کے تحفظ اور انسانی امدادی راستوں کی بحالی میں مدد ملی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ UNMISS کی مؤثر کارکردگی میزبان حکام کے ساتھ Status of Forces Agreement کے تحت تعاون پر منحصر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نقل و حرکت پر پابندیاں اور دیگر عملی رکاوٹیں حساس وقت میں مینڈیٹ کی تکمیل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ انہوں نے جنوبی سوڈان کی حکومت پر زور دیا کہ وہ مشن کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کو درپیش جاری مالی بحران UNMISS کی مینڈیٹ پر عملدرآمد کی صلاحیت کو متاثر کر رہا ہے، جبکہ معاوضوں کی طویل تاخیر امن فوج اور پولیس فراہم کرنے والے ممالک پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن مشنز کی مالیات میں پیش گوئی اور پائیداری تمام فریقین کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور یہ آپریشنل مؤثریت اور امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
اپنے اختتامی کلمات میں انہوں نے اس مرحلے پر UNMISS کی صلاحیتوں کو کمزور کرنے سے خبردار کیا اور کہا کہ اس سے تحفظ کی کوششیں متاثر ہوں گی اور سیاسی استحکام میں معاونت کی صلاحیت کم ہو جائے گی۔ انہوں نے جنوبی سوڈان میں دیرپا امن اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے مکمل عزم کا اعادہ کیا۔











