اسلام آباد، 06 مئی ( اے پی پی): اسلام آباد میں نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ اور یونیسیف کے زیرِ اہتمام “اسٹیٹ آف چلڈرن اِن پاکستان رپورٹ 2025” کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قانون و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔ وفاقی وزیر نے سالانہ رپورٹ کو پالیسی سازی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے لیے ایک اہم دستاویزی ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا کہ 115 ملین سے زائد بچوں کے حقوق کی تکمیل ریاست کی آئینی و قانونی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بچوں کے حقوق کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے “نیشنل چائلڈ رائٹس انٹیگریٹڈ ڈیش بورڈ” کے اجرا اور بین الاقوامی وعدوں کے بچوں کے لیے آسان فہم ورژنز کی تیاری کو سراہا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے حالیہ قانون سازی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد، بلوچستان اور پنجاب میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 کے ذریعے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ جنوری 2025 میں قائم کردہ “نیشنل میکانزم فار رپورٹنگ اینڈ فالو اپ” ) وفاقی و صوبائی سطح پر عالمی وعدوں پر عملدرآمد کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر بچوں کے لیے محفوظ اور باوقار مستقبل کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔











