اقوامِ متحدہ: جنرل اسمبلی کی بین المذاہب و بین الثقافتی مکالمے کے فروغ سے متعلق پاک-فلپائن قرارداد  منظور

5

اقوامِ متحدہ، 20 مئی(اے پی پی): اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے آج “امن کے لیے بین المذاہب اور بین الثقافتی مکالمے، افہام و تفہیم اور تعاون کے فروغ” کے عنوان سے دو سالہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، جسے پاکستان اور فلپائن نے مشترکہ طور پر پیش کیا تھا اور جسے اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی بڑی تعداد کی حمایت حاصل تھی۔

قرارداد پیش کرتے ہوئے اپنے خطاب میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے رکن ممالک کا ان کی تفہیم، لچک اور بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کیا، بالخصوص قرارداد کے شریک بانی ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سراہا، جو اقوامِ متحدہ کی وسیع نمائندگی کی عکاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ قرارداد آزادیِ اظہار کے حق کی توثیق کرتی ہے اور تمام ریاستوں کے اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ تمام انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے عالمی احترام، ان کے تحفظ اور ان پر عمل درآمد کو فروغ دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد اس اصول کو بھی برقرار رکھتی ہے کہ مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر عدم برداشت کے واقعات کے ردِعمل میں تشدد کسی صورت قابلِ جواز یا قابلِ قبول نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی ایسے تشدد کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے منسوب کیا جانا چاہیے۔

پاکستانی مستقل مندوب نے مذاہب، ثقافتوں اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو عالمی برادری کی مشترکہ خواہش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ باہمی افہام و تفہیم، پُرامن بقائے باہمی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانیت کے دیرینہ خواب یعنی پائیدار امن اور خوشحالی کے حصول کے لیے ایک ایسی ثقافتِ امن کو فروغ دینا ضروری ہے جو تنوع اور شمولیت کو اپنائے، بنیادی حقوق اور آزادیوں کا تحفظ کرے، اور ان سماجی ڈھانچوں اور دقیانوسی تصورات کو مسترد کرے جو افراد، معاشروں، برادریوں اور ریاستوں کے درمیان تقسیم پیدا کرتے ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ یہ قرارداد اقوامِ متحدہ کے منشور اور یونیسکو کے دستور کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کرتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ پائیدار امن، برداشت، مکالمے اور اقوام و معاشروں کے درمیان تعمیری روابط کے ذریعے ہی قائم کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی جذبے کے تحت پاکستان اور فلپائن نے متعدد شریک بانی ممالک کی حمایت سے یہ دو سالہ قرارداد پیش کی تاکہ بین الثقافتی اور بین المذاہب یکجہتی اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سال قرارداد کو تکنیکی طور پر برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی تاکہ وہ بنیادی پیغام محفوظ اور دوبارہ اجاگر کیا جاسکے جسے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا۔