اقوامِ متحدہ، 20 مئی (اے پی پی): پاکستان نے کہا ہے کہ تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی صورتحال میں شہریوں کا تحفظ شدید خطرات سے دوچار ہے اور بالخصوص فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی رسائی، احتساب اور بین الاقوامی قانون کی تجدید شدہ پاسداری ناگزیر ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ سے متعلق کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ غیر ملکی قبضے کی صورتحال میں شہری طویل عرصے تک اپنے حقوق، وقار اور حقِ خودارادیت سے محروم رہتے ہیں جبکہ قبضہ بین الاقوامی قانون کے تحت قابض طاقت کی ذمہ داریوں کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیتا ہے۔
فلسطین کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ شہریوں کی بے پناہ تکالیف اس امر کی متقاضی ہیں کہ محفوظ، فوری اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی رسائی یقینی بنائی جائے، خلاف ورزیوں کا احتساب کیا جائے اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ریاست کے قیام کو عملی جامہ پہنایا جائے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ تنازع سات دہائیوں سے زائد عرصے سے سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے جبکہ شہری آج بھی غیر ملکی قبضے کے تحت شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جن میں بھاری عسکری موجودگی، من مانی گرفتاریاں، بنیادی آزادیوں پر پابندیاں، آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششیں اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقِ خودارادیت سے محرومی شامل ہیں۔
انہوں نے 16 اکتوبر 2025 کو اقوامِ متحدہ کے خصوصی طریقہ کار کی مشترکہ مراسلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تقریباً 2 ہزار 800 افراد بشمول صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری اور حراست، گھروں کی مسماری، تقریباً 8 ہزار سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش اور 22 اپریل سے 2 مئی 2025 کے درمیان کشمیریوں اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، دھمکیوں اور غیر انسانی رویوں کے 64 واقعات کا ذکر کیا گیا تھا۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ساحل، سوڈان، جمہوریہ کانگو اور غزہ سمیت مختلف خطوں میں شہری تنازعات میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں وہ بمباری، بے دخلی، بھوک، جنسی تشدد، گھروں اور روزگار کی تباہی، بنیادی سہولیات کے انہدام اور انسانی امداد سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کا تحفظ محض ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ ایک لازمی قانونی ذمہ داری، اخلاقی تقاضا اور سلامتی کونسل کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحران اصولوں کی کمی کا نہیں کیونکہ جنیوا کنونشنز، بین الاقوامی انسانی قانون اور بین الاقوامی انسانی حقوق کا قانون واضح رہنمائی فراہم کرتے ہیں بلکہ اصل مسئلہ ان اصولوں پر عملدرآمد، احتساب اور سیاسی عزم کا فقدان ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ سلامتی کونسل کا لائحۂ عمل پانچ ترجیحات پر مبنی ہونا چاہیے جن میں بین الاقوامی انسانی قانون کا بلا امتیاز اور بغیر دوہرے معیار کے احترام، شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملوں کے خاتمے کے لیے مؤثر احتساب، محفوظ اور مستقل انسانی امداد کی رسائی، تنازعات کے روک تھام اور پُرامن حل پر توجہ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو بین الاقوامی قانون کے دائرے میں لانا شامل ہے تاکہ ڈرونز، سائبر ذرائع اور مصنوعی ذہانت شہری نقصان میں اضافے یا ذمہ داری کو مبہم نہ بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے احترام، احتساب کو یقینی بنانے، تنازعات کے پُرامن حل اور جہاں کہیں بھی شہری خطرے میں ہوں ان کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہری کوئی ضمنی نقصان نہیں بلکہ وہی لوگ ہیں جنہیں بچانے کے لیے اقوامِ متحدہ قائم کی گئی تھی۔











