‎اقوامِ متحدہ میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب، الزامات مسترد

7

   اقوام متحدہ،22 مئی ( اے پی پی): اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی   میں ثقافتِ امن سے متعلق قرارداد پر بحث کے دوران پاکستان نے بھارتی مندوب کے بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے تمام الزامات کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دے دیا۔

پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری ذولفقار علی  نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے عالمی برادری کے مثبت اور متفقہ پیغام کو سیاست کی نذر کرنے کی کوشش کی۔

‎انہوں نے کہا کہ مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی، رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ کے بجائے بھارت نے ایک مرتبہ پھر جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لیا۔ پاکستانی مندوب کے مطابق بھارت کے حالیہ بیانات گزشتہ مئی میں ہونے والی “شرمناک فوجی شکست” سے پیدا ہونے والی خفت کا اظہار ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے کرتارپور راہداری  کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس راہداری کے قیام کے بعد دنیا بھر خصوصاً بھارت سے آنے والے ہزاروں سکھ یاتریوں کو گردوارہ دربار صاحب کرتارپور کی محفوظ اور باوقار زیارت کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے 2024 میں اس معاہدے میں مزید پانچ برس کی توسیع کا اعلان کیا، جسے عالمی سکھ برادری اور انتونیو گوتریس  کی جانب سے بھی سراہا گیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کرتارپور راہداری کو “امید کی راہداری” قرار دیا تھا۔

اپنے بیان میں پاکستان نے بھارت پر اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والے مظالم کا الزام بھی عائد کیا۔ پاکستانی مندوب کے مطابق بھارت میں مسلمان اور دیگر مذہبی اقلیتیں نفرت انگیز جرائم، امتیازی سلوک، عبادت گاہوں کی بے حرمتی اور تشدد کا سامنا کر رہی ہیں۔

‎پاکستان نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اقلیتوں کے خلاف مظالم کی سرپرستی بند کرے اور ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرے۔ پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ بھارت کا انسانی حقوق کا ریکارڈ اس کے عملی اقدامات سے جانچا جانا چاہیے، نہ کہ بین الاقوامی فورمز پر دیے جانے والے بیانات سے۔