بینظیر نشوونما پروگرام نے بچوں میں غذائی کمی اور ماں و بچے کی صحت کے شعبے میں نمایاں نتائج حاصل کیے ہیں

8

اسلام آباد، 07 مئی  (اے پی پی ):  بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت جاری بینظیر نشوونما پروگرام نے بچوں میں غذائی کمی اور ماں و بچے کی صحت کے شعبے میں نمایاں نتائج حاصل کیے ہیں۔ آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے کیے گئے آزادانہ جائزے کے مطابق پروگرام سے مستفید ہونے والے بچوں میں غذائی کمی کی شرح میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

تحقیق کے مطابق پروگرام سے فائدہ اٹھانے والے بچوں میں چھ ماہ کی عمر تک غذائی کمی کی شرح میں 22 فیصد جبکہ ایک سال کی عمر تک 18 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح کم وزن کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں میں 6 فیصد، قبل از وقت پیدائش میں 11 فیصد اور کمزور نومولود بچوں میں 7 فیصد کمی سامنے آئی ہے۔

یہ نتائج بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقدہ بینظیر نشوونما پروگرام کے جائزہ اجلاس میں پیش کیے گئے۔ وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ نے ان نتائج کو پاکستان کے سماجی تحفظ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر غذائی اور صحت اقدامات کے ذریعے کمزور طبقات کے بچوں کی صحت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

چیئرپرسن بی آئی ایس پی روبینہ خالد نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام ملک بھر میں لاکھوں خواتین اور بچوں تک پہنچ چکا ہے اور اس کے مثبت اثرات تحقیق میں واضح طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت مند ماں اور صحت مند بچے ایک مضبوط اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔

اجلاس کے دوران عائشہ رضا فاروق نے بچوں کی ابتدائی نشوونما کے اہم مرحلے میں سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ عالمی شہرت یافتہ ماہر صحت ڈاکٹر ذوالفقار بھٹہ نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام ماں اور بچے کی صحت بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔

انیتا زیدی نے پروگرام کو سماجی تحفظ کا ایک مؤثر ماڈل قرار دیتے ہوئے خواتین اور بچوں کی فلاح کے لیے حکومت پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔

اجلاس میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن، ورلڈ فوڈ پروگرام اور یونیسیف سمیت مختلف شراکت دار اداروں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔