توانائی کے شعبے میں اصلاحات تیز کی جائیں، وزیراعظم کی ہدایت

6

اسلام آباد، 5 0مئی (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی ہے کہ مستقبل میں توانائی کی ضروریات قابل تجدید ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی بنائی جائے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے اقدامات میں تیزی لائی جائے۔

وہ پیر کو یہاں پاور سیکٹر سے متعلقہ اصلاحاتی اقدامات پر جائزہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پن بجلی، شمسی توانائی اور بائیو گیس سمیت دیگر قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار سے پیداواری لاگت میں مزید کمی ہو گی اور معیشت کی ترقی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ بجلی چوری کے واقعات میں ملوث افراد سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ حالیہ دنوں میں جن تقسیم کار کمپنیوں نے “اکنامک میرٹ آرڈر” کی خلاف ورزی کی ہے ان کے خلاف محکمانہ کارروائی یقینی بنائی جائے۔ وزیراعظم نے بجلی چوری والے علاقوں میں ٹرانسفارمر پر سمارٹ میٹر نصب کرنے کے منصوبے کے نفاذ میں تیزی لانے اور ملک میں بجلی کے مسابقتی مارکیٹ کو فروغ دینے کے لیے اقدامات تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے نجی شعبے کو ویلنگ کے نظام کے تحت پہلے مرحلے میں 400 میگاواٹ بجلی کی فراہمی پر کام تیز کرنے کا کہا۔

اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ بجلی کی ترسیلی کمپنیوں میں بجلی چوری، عدم ادائیگی اور دیگر نقصانات کو مؤثر اقدامات کے بعد بہت حد تک کم کیا جا چکا ہے۔ بجلی کے ترسیلی نظام کے نقصانات جون 2024 میں 18.3 فیصد سے کم ہو کر مارچ 2026 میں 15.3 فیصد تک آ چکے ہیں، جبکہ بجلی کے بلوں کی وصولی میں بہتری آئی ہے جو جون 2024 میں 90 فیصد سے بڑھ کر مارچ 2026 میں 96.46 فیصد ہو چکی ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجلی کی تین تقسیم کار کمپنیوں میں نجی شعبے کی شمولیت کے حوالے سے کام جاری ہے اور اس سال نومبر میں بولی کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔ نقصان میں چلنے والے 2500 فیڈرز پر سمارٹ میٹرز لگائے جا چکے ہیں۔

اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔