سکھر،21مئی(اے پی پی): گمس کے کارڈیاک سرجری ڈیپارٹمنٹ اور کارڈیالوجی یونٹ کے سینئر کنسلٹنٹ ڈاکٹر اللہ ڈنو نے اے پی پی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پیر عبدالقادر شاہ جیلانی انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PAQSJIMS)، جسے عام طور پر گمس گمبٹ کہا جاتا ہے، کا پیڈیاٹرک کارڈیالوجی یونٹ پاکستان بھر کے بچوں کے لیے مفت اور جدید کارڈیاک کیئر کا ایک نمایاں مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔ ڈاکٹر ہریش کمار کی سربراہی میں 2021 میں قائم ہونے والا یہ یونٹ انجیوگرافی کے ذریعے کورونری آرٹری کی بیماریوں کی تشخیص اور علاج کرتا ہے اور ماہرانہ انٹروینشنل کیئر فراہم کرتا ہے۔ غیر جراحی کیسز کا علاج موقع پر ہی انجیوگرافی اور اینجیوپلاسٹی کے ذریعے کیا جاتا ہے، جبکہ جراحی کے کیسز معروف پیڈیاٹرک کارڈیاک سرجن ڈاکٹر اقبال حسین کو ریفر کیے جاتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ یونٹ سالانہ 700 بچوں کا علاج مفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں پر علاج کا کوئی خرچ نہیں آتا اور ادویات بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں، یہ یونٹ گمس کے وسیع کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ کا حصہ ہے، جو روٹین اور پیچیدہ انٹروینشنل کارڈیالوجی، سی ٹی او اینجیوپلاسٹی، کورونری بائی پاس اور اوپن ہارٹ کے طریقہ کار مکمل طور پر مفت انجام دیتا ہے۔ اسپتال کا فعال کیتھ لیب، سی یو اور آئی سی یو کی سہولیات بالغ اور پیڈیاٹرک دونوں کارڈیاک کیئر کو سپورٹ کرتی ہیں۔
ڈاکٹر اللہ ڈنو نے بتایا کہ مریض سندھ بھر کے علاوہ کوئٹہ، لورالائی، ڈیرہ مراد جمالی، جھٹ پٹ اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے بھی آتے ہیں۔ اسپتال میں پنجاب کے شہروں لاہور، رحیم یار خان، جام پور، بہاولپور سے بھی نمایاں تعداد میں ریفرل موصول ہوتے ہیں، گمس گمبٹ سندھ میں پیچیدہ سرجریوں، جن میں ٹرانسپلانٹس اور خصوصی پیڈیاٹرک دل کی سرجریاں شامل ہیں۔











