سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اور قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ سے متعلق قانون سازی اور انتظامی امور پر تفصیلی غور

7

اسلام آباد،18 مئی(ے پی پی ): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ورثہ و ثقافت کا اجلاس  چیئرمین کمیٹی سینیٹر ہدایت اللہ خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر سید وقار مہدی اور سینیٹر سرمد علی نے شرکت کی، جبکہ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

کمیٹی اجلاس کے دوران قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اور قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ   (کیو ایم ایم بی) سے متعلق قانون سازی اور انتظامی امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مصطفیٰ امپیکس کیس کے فیصلے کے بعد’’حکومت‘‘ کی اصطلاح تمام انتظامی فیصلوں، بشمول نچلے درجے کے ملازمین کی تقرریوں اور سروس کی شرائط میں ترامیم کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال کی جا رہی ہے۔ بتایا گیا کہ اس کے باعث ایسے معاملات کے لیے وفاقی کابینہ سے منظوری لینا ضروری ہو جاتا ہے جس سے انتظامی تاخیر اور طریقہ کار کی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس ضمن میں بل میں تجویز دی گئی کہ ’’حکومت‘‘ کی جگہ حسبِ ضرورت ’’متعلقہ ڈویژن‘‘ یا ’’وزیر‘‘  کی اصطلاح استعمال کی جائے تاکہ اختیارات متعلقہ حکام کو منتقل کیے جا سکیں اور انتظامی امور کو مؤثر بنایا جا سکے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر اس بل کی منظوری دے دی۔

کمیٹی اجلاس کے دوران کمیٹی کو سرسید میموریل میوزیم کے دورے کی دعوت دی گئی جہاں بتایا گیا کہ دنیا بھر سے قیمتی اور نایاب تاریخی اشیاء جمع کر کے محفوظ کی گئی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کی جانب سے ملکی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں اور کارکردگی کو سراہا۔ سیکرٹری قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے مزار سے متعلق امور کی نگرانی اور حفاظت کرنا ڈویژن کے لیے اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے بتایا کہ QMMB ایوانِ نوادرات اور ملحقہ باغات کی دیکھ بھال اور انتظام کا ذمہ دار ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ڈویژن حکومت سندھ کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتا ہےجس نے ہمیشہ مزار قائد سے متعلق امور میں بھرپور تعاون فراہم کیا ہے۔

علیم شیخ نے کمیٹی کو قائداعظم محمد علی جناحؒ کے وصال کے بعد QMMB کے قیام اور اس کے طریقہ کار سے متعلق بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ بورڈ میں مختلف ممتاز شخصیات شامل ہیں اور موجودہ بورڈ 2023 میں تشکیل دیا گیا تھا۔ قیام کے بعد سے اب تک بورڈ کے پانچ اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ بورڈ کی مدت کے اختتام کے لیے کوئی مقررہ مدت نہیں ہے۔

سینیٹر سید وقار مہدی نے بورڈ کے تمام پانچ اجلاسوں کی کارروائی ان میں کیے گئے فیصلوں اور ان پر عملدرآمد کی صورتحال طلب کی۔ سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ پانچ میں سے چار اجلاس گزشتہ دس ماہ کے دوران منعقد ہوئے۔کمیٹی کو مزار قائد کے احاطے میں درپیش مختلف مسائل سے بھی آگاہ کیا گیا جن میں منشیات فروشوں کی داخلہ، باڑ کی چوری اور غیر قانونی دکانوں کی صورت میں تجاوزات شامل تھیں جنہیں حال ہی میں ہٹا دیا گیا ہے۔ سینیٹر سید وقار مہدی نے مزار قائد کے احاطے میں امن و امان اور سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے انسپکٹر جنرل پولیس کو شامل کرنے کی سفارش کی۔

کمیٹی نے مزید سفارش کی کہ بورڈ میں کراچی سے تعلق رکھنے والے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اگست 2026 میں ممکنہ طور پر نیا بورڈ تشکیل دیا جائے گا جس میں کراچی سے اراکین کو شامل کیے جانے کا امکان ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ BS-17 اور اس سے اوپر کے افسران کی کل تعداد پانچ ہے جبکہ BS-01 سے BS-16 تک کے ملازمین کی تعداد 107 ہے۔ مزید بتایا گیا کہ مالی سال 2025-26 کے لیے QMMB کے بجٹ کا مجموعی تخمینہ 353.921 ملین روپے ہے۔سینیٹر سید وقار مہدی نے مزار قائد کے احاطے میں کچرے کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صفائی کے انتظامات بہتر بنانے کے لیے کراچی ویسٹ مینجمنٹ حکام کے ساتھ اجلاس کے انعقاد میں تعاون کی پیشکش کی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ مزار قائد کا کل رقبہ 13.718 ایکڑ پر مشتمل ہے جبکہ جنوبی اطرافی علاقہ 35.277 ایکڑ پر محیط ہے جہاں پاکستان پارک کے قیام کی تجویز زیر غور ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ مزار قائد کی دیکھ بھال اور وہاں آنے والے عوام کو سہولیات کی فراہمی کے لیے چاروں صوبے 50 ملین روپے فراہم کریں، جبکہ آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان بھی اپنی استعداد کے مطابق تعاون کریں۔

کمیٹی نے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن سے متعلق امور اور مزار قائد سے جاری کاموں کی نگرانی کے لیے ایک ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ مزید بتایا گیا کہ ایوانِ نوادرات کی تزئین و آرائش اور ازسرِ نو تعمیر کا کام جاری ہے اور مالی سال 2026-27 کے لیے PSDP کے تحت اضافی گرانٹ مختص کرنے کی درخواست کی جائے گی۔