وفاقی دارالحکومت میں اسکول سے باہر بچوں کو تعلیم سے جوڑنے کی مہم شروع، قومی اسمبلی میں قرار داد منظور

11

اسلام آباد،12 مئی (اے پی پی):قومی اسمبلی کو منگل کے روز آگاہ کیا گیا کہ وفاقی دارالحکومت میں اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی اداروں میں لانے کے لیے ایک بھرپور مہم شروع کی گئی ہے۔

توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وزیر مملکت برائے تعلیم وجیہہ قمر نے بتایا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے تعاون سے اس مسئلے کے حل کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومتی منصوبے میں تیز رفتار تعلیمی پروگرام اور تکنیکی تعلیم کی جانب پیش قدمی شامل ہے۔ طلبہ کی تعلیمی اداروں میں موجودگی برقرار رکھنے کے لیے مڈل ٹیک، میٹرک ٹیک اور انٹر ٹیک پروگرام متعارف کرائے گے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کم آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کی مالی معاونت کے لیے ایجوکیشن واؤچر پروگرام بھی شروع کیا گیا ہے۔قومی اسمبلی نے مہم جو کھلاڑی ثمر خان کی جانب سے ماؤنٹ ایلبروس سر کرنے اور سنوبورڈنگ کرنے کی شاندار کامیابی کو سراہتے ہوئے قرار داد منظور کی۔ قرار داد سحر کامران نے پیش کی۔

قرار داد میں ثمر خان کی ایڈونچر اسپورٹس میں مسلسل خدمات کو تسلیم کیا گیا، جن میں دنیا کی پہلی خاتون کے طور پر بیافو اور گوڈون آسٹن گلیشیئرز پر سائیکل چلانا اور ماؤنٹ کلمنجارو پر سائیکل چلانے والی پہلی پاکستانی خاتون ہونا شامل ہے۔ قرار داد میں کہا گیا کہ یہ غیر معمولی جرات، حوصلے اور عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ایوان نے ثمر خان کو پاکستان کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور ملک کی نوجوان خواتین کے لیے مشعل راہ بننے پر مبارکباد پیش کی۔ایوان میں پولیو کے خاتمے اور بحالی سے متعلق بل بھی پیش کیا گیا، جسے سید وسیم حسین نے ایوان میں پیش کیا۔

ایوان میں “اینٹی ریپ انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل ایکٹ 2021” میں ترمیم سے متعلق بل پیش کیا گیا۔ بل پیش کرنے والی رکن نوشین افتخار نے ایوان سے اس کی منظوری کی تحریک پیش کی۔ سپیکر نے تحریک ایوان کے سامنے رکھی، جس کے بعد بل منظور کر لیا گیا۔ نعیمہ کشور خان کی جانب سے پیش کردہ ترمیم پر رائے شماری ہوئی، جسے ایوان نے مسترد کر دیا۔اجلاس میں پاکستان بیت المال ترمیمی بل 2025 پر بحث ہوئی۔

بل پیش کرنے والی رکن نے ایوان سے استدعا کی کہ پاکستان بیت المال ترمیمی بل 2025 سینیٹ سے منظور ہو کر آیا ہے، اسے فوری طور پر غور کے لیے لیا جائے۔

عالیہ کامران کی جانب سے بل کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی ترمیم پیش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے سینیٹ میں بلوں کو کمیٹیوں میں بھیجا جاتا ہے تاکہ اراکین اپنی تجاویز دے سکیں، اسی طرح ہمیں بھی یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ ہم بل پر اپنی رائے دے سکیں، اس لیے بل کو کمیٹی میں بھجوایا جائے تاکہ بہترین قانون سازی ہو سکے۔

وزیر  پارلیمانی امور کا کہنا تھا  کہ بل سینیٹ سے منظور ہو کر آیا ہے، اگر اسے اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیج دیا جائے تو وہاں تفصیلی غور ہو سکے گا۔ اس کے بعد سپیکر نے بل کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی تحریک ایوان کے سامنے رکھی، جو منظور ہو گئی۔قومی اسمبلی کا اجلاس کل 11 بجے تک کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔