اسلام آباد، 25 مئی (اے پی پی ): ثقافتیں صرف موسیقی،فن اور لباس سے ایک دوسرے کے قریب نہیں آتیں۔۔کبھی کبھی ایک پلیٹ کھانا بھی دو قوموں کے درمیان وہ قربت پیدا کر دیتا ہے جو الفاظ سے ممکن نہیں ہوتی۔
دو قوموں کا تعلق صرف سفارت خانوں یا معاہدوں تک محدود نہیں رہتا،بلکہ وہ روزمرہ زندگی کے ذائقوں میں بھی محسوس ہوتا ہے۔
پاکستان میں چائنیز فوڈ کی مقبولیت پاک چائنہ دوستی کی ایک نرم مگر گہری علامت ہے۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور کی گلیوں میں چاؤمین، فرائیڈ رائس، منچورین، ڈمپلنگز اور اسپرنگ رولز صرف کھانے نہیں بلکہ ایک ثقافتی رابطہ ہیں۔ لیکن یہ تعلق صرف شہروں تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے شمالی علاقے ،خاص طور پر گلگت بلتستان اور ہنزہ کی روایتی خوراک میں بھی حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔وہاں کے مشہور پکوان ممتو جن کو ڈمپلنگز بھی کہتے ہیں، نوڈلز نما سوپ، اور بھاپ میں تیار ہونے والے سادہ مگر غذائیت سے بھرپور کھانے وسطی ایشیائی اور چینی کھانوں سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔یہ مماثلت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ سلک روٹ کے پرانے تجارتی راستوں نےصرف سامان نہیں پہنچایا، بلکہ ذائقے، روایات اور ثقافتیں بھی ایک دوسرے میں گھلا دی ہیں۔
یہ کھانے روزمرہ زندگی میں دوستی کی ایک اور شکل بن جاتے ہیں۔ یہ ذائقے صرف پیٹ نہیں بھرتے، یہ دلوں کو قریب لاتے ہیں۔ پاک چائنہ دوستی، صرف تاریخ نہیں، یہ ایک ایسا ذائقہ ہے جو نسلوں تک یاد رکھا جائے گا۔











