پہلگام واقعہ کے بعد عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی، ”شائننگ انڈیا“ کا بیانیہ عالمی تنہائی میں تبدیل ہوگیا، عطاء اللہ تارڑ

5

اسلام آباد،13مئی  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ  پہلگام واقعہ کے بعد عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی، ”شائننگ انڈیا“ کا بیانیہ عالمی تنہائی میں تبدیل ہو گیا، پاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست ہے، اس جنگ میں دی جانے والی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، پاکستان پر الزام عائد کرنے والا بھارت خود بیرونِ ملک سکھ رہنماؤں کے قتل میں ملوث رہا ہے اور اپنے داخلی مسائل کو بیرونی اور بیرونی مسائل کو داخلی رنگ دینا اس کا وطیرہ رہا ہے، دہشت گردی بھارت کا داخلی اور جموں و کشمیر بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ معرکہ حق کے دوران قوم اور مسلح افواج کے اتحاد نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور ملک کے وقار میں اضافہ ہوا ہے، پاکستان کو آج سنجیدہ ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو بین الاقوامی تنازعات کے حل میں کردار ادا کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز میں انڈیا سٹڈی سینٹر کے زیر اہتمام ‘‘Marka-e-Haq:Victory in the Battlefield and Beyond’’ کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز ایمبیسڈر خالد محمود، سابق وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی، ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی، سابق وائس چیف آف ایئر اسٹاف ایئر مارشل ریٹائرڈ فاروق حبیب، معروف سٹریٹجک تجزیہ کار احمد حسن العربی سمیت دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کی، پاکستان ہمیشہ امن پر یقین رکھتا ہے اور امن کا علمبردار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ریاست ہے، ہم دہشت گردوں اور دنیا کے درمیان ایک دیوار اور ڈھال بن کر کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے بیانیہ اور سٹریٹجی میں بعض تضادات اور عدم مطابقت پائی جاتی ہے۔ بھارت ہمیشہ بیرونی مسائل کو داخلی اور داخلی مسائل کو بیرونی رنگ دیتا رہا ہے، دہشت گردی بھارت کا داخلی مسئلہ ہے، بیرونی نہیں جبکہ جموں و کشمیر کا تنازعہ عالمی مسئلہ ہے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں جموں و کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت فراہم کرتی ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جب پہلگام کا واقعہ پیش آیا تو بھارت نے فالس فلیگ آپریشن کو ہوا دینے اور من گھڑت بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی جس میں بے شمار تضادات موجود تھے۔ پہلگام واقعہ کے رونما ہونے کے صرف دس منٹ کے اندر ایف آئی آر درج کرلی گئی، بغیر کسی تحقیقات کے الزام پاکستان پر عائد کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام لائن آف کنٹرول سے سو کلو میٹر سے زائد فاصلے پر واقع ہے، ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ جس نقل و حرکت کا الزام لگایا جا رہا ہے اس کا سراغ تک نہ لگایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی پہلگام کا واقعہ پیش آیا تو ہم فوری طور پر متحرک ہو گئے۔ بیانیہ کی اصل قوت ریاستی اداروں کے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور مشترکہ عمل میں مضمر ہوتی ہے، تمام ریاستی ادارے یکسو تھے، ہمارا مقصد اور ہدف مشترک تھا کہ سچ کو موثر انداز میں دنیا کے سامنے رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مئی کی جنگ کے دوران ہمارا بیانیہ اس لئے مضبوط تھا کیونکہ ہم نے بروقت، درست فورم پر موثر انداز میں سچ کو دنیا کے سامنے رکھا، بیانیہ کی جنگ میں اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ صحیح بات، درست وقت پر اور درست فورم پر کی جائے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ سٹریٹجک بیانیہ کے حوالے سے مخصوص اور تفصیلی مہم ترتیب دی جائے، بیانیہ کے محاذ پر ہمیں اس وقت بڑی تقویت حاصل ہوئی جب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان ملٹری اکیڈمی میں خطاب کرتے ہوئے پہلگام واقعہ کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور آزادانہ تحقیقات کی پیش کش کی۔ آج ایک سال گذر چکا ہے مگر بھارت کی جانب سے ہماری اس پیشکش کا کوئی جواب نہیں دیا گیا اور نہ ہی دیا جا سکتا ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ پہلگام واقعہ ایک فالس فلیگ آپریشن تھا۔ پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ ہمارے ہاتھ صاف ہیں جبکہ بھارت تحقیقات سے گریز کرتا رہا اور پھر اسی فالس فلیگ آپریشن کو جواز بنا کر پاکستان کے اندر معصوم شہریوں اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔  انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں جس نے دہشت گردی کی جنگ میں 90 ہزار جانوں کی قربانی دی ہو اور سینکڑوں ارب ڈالر کے معاشی نقصانات برداشت کئے ہوں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان پر دہشت گردی کا الزام ایک ایسا ملک عائد کر رہا ہے جو خود دنیا میں سکھ رہنماؤں کے قتل میں ملوث ہے، بھارت کینیڈا میں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل سمیت امریکا، برطانیہ اور دنیا کے مختلف حصوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے جبکہ بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، ہمارے پاس شواہد موجود ہیں، پاکستان میں گرفتار ہونے والے بھارتی شہری کلبھوشن یادیو پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھا اور اسے حراست میں لیا گیا۔  وفاقی وزیر اطلاعات نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات مندانہ اور بہادر قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ردعمل نے جس انداز میں صورتحال کا مقابلہ کیا اس نے پوری قوم کے حوصلے بلند کر دیئے۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے، معرکہ حق کے دوران پاکستان نے دشمن کے صرف فوجی اہداف اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا اس کے برعکس بھارت نے ہمارے شہری علاقوں پر حملے کئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جب بھارت کے آٹھ طیارے گرے تو بھارت کا غرور بھی زمین بوس ہو گیا۔ دنیا کے سامنے فضائی معرکے میں ہماری برتری ثابت ہوئی۔  وفاقی وزیر نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد پاکستان کی عزت اور وقار میں اضافہ ہوا ہے، عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت اور کردار نمایاں ہوا ہے۔ اب پاکستان کا نام عزت سے لیا جاتا ہے اور اسے ایک سنجیدہ ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو بین الاقوامی تنازعات کے حل میں کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا پاکستان کی صلاحیتوں اور استعداد کو تسلیم کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب مشرقی ہمسایہ نے سینکڑوں ارب ڈالر لابنگ فرمز اور پی آر فرمز پر خرچ کئے لیکن آج شائننگ انڈیا کی بجائے تنہائی کا شکار ہے۔